ہم کہاں جا رہے ہیں؟
راولاکوٹ کے مناظر نے ایک ایسا سوال ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ یہ سوال کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک انتظامیہ سے نہیں بلکہ پوری ریاستی سوچ سے ہے۔ آخر ہم کہاں جا رہے ہیں؟ وہ کشمیر جس کے لئے پاکستان نے سات دہائیوں سے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی، جس کے مظلوم عوام کے لئے ہر سال یومِ یکجہتی منایا جاتا ہے، جس کے حقِ خودارادیت کو ہم اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیتے ہیں، اگر اسی سرزمین پر ریاستی طاقت کا رخ اپنے ہی شہریوں کی طرف ہو جائے تو ہماری اخلاقی دلیل کی بنیاد کہاں باقی رہ جاتی ہے؟ریاست کی سب سے بڑی طاقت اس کے ہتھیار نہیں بلکہ اس کے شہریوں کا اعتماد ہوتا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہونے لگے کہ ان کی آواز سننے کے بجائے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو پھر ریاست اور شہری کے درمیان وہ رشتہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔ جس پر ہر مہذب معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ہم برسوں سے دنیا کو یہ باور کراتے آئے ہیں کہ کشمیر میں طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں۔ ہم نے اقوامِ متحدہ سے لے کر عالمی دارالحکومتوں تک یہی موقف پیش کیا کہ گولی کسی قوم کے جذبات کو شکست نہیں دے سکتی۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ احتجاج آخر کیوں جنم لیتا ہے؟ کوئی بھی معاشرہ بلاوجہ سڑکوں پر نہیں نکلتا۔ جب نفرتوں کا لاوہ پکنے کا عمل طویل ہوجائے ، جب مسائل کا حل تلاش کرنے کو درخور اعتنا گرداننے کو زحمت تصور،کیا جائے ، جب مکالمے کے دروازوں پر قفل لگا دیئے جائیں تو پھر لاوہ ابل پڑتا ہے ، احتجاج ناگزیر ہو جاتا ہے۔
ایسے حالات میں ریاست کا کردار ثالث کا ہونا چاہیے، فریق کا نہیں۔ طاقت ہمیشہ آخری اور انتہائی غیر معمولی راستہ ہونی چاہیے، معمول کی حکمتِ عملی نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر بحران کا پہلا جواب طاقت کا استعمال بن چکا ہے۔ سیاسی مسئلہ ہو، معاشی بے چینی ہو یا انتظامی ناکامی، علاج ایک ہی تجویز کیا جاتا ہے، طاقت کا استعمال۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، دیرپا امن نہیں۔ایک تلخ سوال یہ بھی ہے کہ اگر انتخابی نتائج کو فارم 47جیسے تنازعات نے متنازع بنا دیا، اگر سیاسی انجینئرنگ کو ریاستی حکمت عملی کا حصہ بنا لیا گیا، تو کیا کشمیر جیسے حساس خطے میں بھی سیاسی تدبر، مذاکرات اور انتظامی حکمتِ عملی کی بجائے طاقت ہی واحد راستہ رہ گئی تھی؟ یہ سوال طنز نہیں، ایک قومی اضطراب ہے۔
کشمیر محض ایک جغرافیہ نہیں، پاکستان کی شہ رگ ہے، قومی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ اگر اسی خطے کے لوگوں کو یہ احساس ہونے لگے کہ ان کی جان، ان کی رائے اور ان کے احتجاج کی کوئی وقعت نہیں تو اس کے اثرات صرف ایک واقعے تک محدود نہیں رہتے بلکہ نسلوں تک منتقل ہوجاتے ہیں۔ ریاستوں کی عظمت اس بیمانے سے نہیں ناپی جاتی کہ کتنے احتجاج کچلے گئے ، بلکہ اس سے کہ انہوں نے کتنے بحران مکالمے سے طے کیے گئے۔ جنوبی افریقہ سے لے کر شمالی آئرلینڈ تک دنیا کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ سیاسی مسائل کا مستقل حل سیاسی عمل سے ہی نکلتا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بندوق صرف جسم کو زخمی کرتی ہے، لیکن ناانصافی دلوں میں نفرتوں کے بیج بوتی ہے۔ جسم کے زخم بھر جاتے ہیں، دلوں کے زخم نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ایسا واقعہ قومی حافظے کا حصہ بن جاتا ہے۔پاکستان اس وقت پہلے ہی بے شمار داخلی اور خارجی چیلنجز سے نبردآزما ہے۔ معیشت دبائو میں ہے، سیاسی تقسیم گہری ہوتی جارہی ہے، نوجوانوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں اگر ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد مزید کمزور ہوا تو اس کا نقصان کسی ایک حکومت کو نہیں بلکہ پورے ملک کو ہوگا۔یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ احتساب کا ہے۔ اگر کہیں طاقت کا غیر ضروری استعمال ہوا ہے تو اس کی شفاف، غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد تحقیقات ہونی چاہئیں۔
قانون کی بالادستی کا تقاضا یہی ہے کہ ریاست بھی قانون کے تابع ہو، کیونکہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے۔ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم کیسا پاکستان چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان جہاں اختلاف کو دشمنی سمجھا جائے، یا وہ پاکستان جہاں اختلاف کو سنا جائے؟ وہ ریاست جو اپنے شہریوں سے خوف زدہ ہو، یا وہ ریاست جس کا سب سے بڑا سرمایہ اپنے عوام کا اعتماد ہو؟راولاکوٹ کا سانحہ صرف ایک مقام کا مسئلہ نہیں، یہ ایک آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنا اجتماعی چہرہ دیکھنا چاہیے۔ اگر اس آئینے کو توڑ دیا جائے تو چہرہ خوبصورت نہیں رہے گا۔ صرف حقائق،پارہ پارہ ہوجاتے سے اصول و ضوابط نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ ریاست کی طاقت کا اصل اظہار بندوق کے دھانے پر نہیں بلکہ برداشت، انصاف اور مکالمے میں ہوتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو مضبوط بناتا ہے اور یہی وہ سبق ہے جسے نظرانداز کرنے والی ریاستیں تاریخ میں بارہا بھاری قیمت ادا کر چکی ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ راولاکوٹ کے واقعے کو محض ایک انتظامی حادثہ سمجھ کر فراموش نہ کیا جائے بلکہ اسے ایک سنجیدہ تنبیہ کے طور پر لیا جائے۔ عوام کے زخموں پر مرہم رکھا جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، اور یہ یقین دلایا جائے کہ ریاست اپنے شہریوں کی محافظ ہے، مخالف نہیں۔کیونکہ جس دن ریاست اور عوام ایک دوسرے کو مخالف سمجھنے لگیں، اس دن کسی کی فتح نہیں ہوتی۔ اس دن صرف اعتماد مردہ ہوجاتا ہے، امید زخمی ہوتی ہے، اور قومیں اپنے مستقبل کا ایک دروازہ خود بند کر دیتی ہیں۔