اچھلتی پگڑیاں اور بازاری لب و لہجے
اُمتِ مسلمہ کی علمی تاریخ اختلافِ رائے سے کبھی خالی نہیں رہی۔ فقہ، تفسیر، حدیث، اصول اور دیگر علوم میں اکابر اہلِ علم کے درمیان متعدد مسائل میں اختلافات موجود رہے، مگر ان اختلافات نے کبھی ایک دوسرے کی عزت و حرمت کو پامال نہیں کیا۔ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جاتا تھا، شخصیت پر حملہ نہیں کیا جاتا تھا۔ افسوس کہ موجودہ دور میں اختلاف کا انداز بدل چکا ہے۔ دلیل کی جگہ دشنام نے لے لی ہے، تحقیق کی جگہ تہمت نے، اور خیر خواہی کی جگہ کردار کشی نے۔ یہی وہ المیہ ہے جس کی طرف حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے نہایت بصیرت افروز انداز میں توجہ دلائی تھی۔حضرت بنوریؒ فرماتے ہیں:’’رائے اور ذوق کا اختلاف پہلے بزرگوں میں بھی رہا ہے، لیکن بہتان طرازی، افترا پردازی، سب و شتم اور لعن طعن کا جو طوفان اس دور میں برپا ہے وہ انتہائی دردناک ہے۔ موجودہ صورت حال نے جو شکل اختیار کر لی ہے، اس سے نہ کسی کی عزت و حرمت باقی ہے، نہ جان و مال محفوظ ہے۔ پوری امت کے خرمنِ امن و سکون کو آگ لگا دی گئی ہے۔ سب جانتے ہیں اور ہمیشہ سے یہ بات مسلم چلی آتی ہے کہ بعض دفعہ ایک انتہائی مخلص اور سراپا اخلاص شخصیت کی رائے بھی غلط ہو سکتی ہے، کسی مخلص کے لئے ضروری نہیں کہ وہ صاحب الرائے بھی ہو، اس کے برعکس بعض دفعہ ایک غیر مخلص کی رائے بھی صحیح ہو سکتی ہے۔‘‘یہ مختصر عبارت اپنے اندر ایک مکمل فکری منشور سموئے ہوئے ہے۔ اس میں اختلاف کے آداب بھی ہیں، علمی دیانت بھی، اخلاقی تربیت بھی اور معاشرتی اصلاح کا پیغام بھی۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اختلافات بڑھ گئے ہیں، بلکہ اصل سانحہ یہ ہے کہ اختلاف کو دشمنی میں بدل دیا گیا ہے۔ علمی مجالس ہوں یا سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم، ہر جگہ زبان کی شائستگی کم اور تلخی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ دلیل سے زیادہ آواز بلند کرنے کو کامیابی سمجھا جاتا ہے اور مخالف کی بات سننے کے بجائے اسے نیچا دکھانے کی فکر غالب رہتی ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ روش صرف عام افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض مذہبی، علمی اور سماجی حلقوں میں بھی اس کا اثر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ کسی کی پگڑی اچھالنا، اس کے اخلاص پر سوال اٹھانا، اس کی نیت کو مشکوک قرار دینا اور اس کے کردار کو مجروح کرنا گویا معمول بنتا جا رہا ہے۔ حالانکہ اسلام نے زبان کی حفاظت کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے اور عزتِ نفس کی حفاظت کو کعب اللہ کی حرمت سے بھی بڑی ذمہ داری بتایا ہے۔حضرت مولانا بنوری ؒنے نہایت گہری بات فرمائی کہ ہر مخلص انسان کی رائے لازماً درست نہیں ہوتی اور ہر درست رائے رکھنے والا شخص لازماً مخلص بھی نہیں ہوتا۔ یہ جملہ ہمارے فکری رویوں کو متوازن بنانے کے لئے کافی ہے۔ ہم اکثر شخصیت کو معیار بنا لیتے ہیں، حالانکہ معیار دلیل ہونی چاہیے۔ کسی بزرگ، عالم یا رہنما سے محبت اپنی جگہ، لیکن اس کی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھ لینا انصاف نہیں۔ اسی طرح کسی سے اختلاف رکھنے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس کی ہر بات کو غلط قرار دے دیا جائے۔علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ رائے کو دلیل کے ترازو میں تولا جائے، نہ کہ تعلقات، جماعت، شخصیت یا جذبات کی بنیاد پر۔ یہی وہ اصول ہے جس نے اسلامی تہذیب کو صدیوں تک علمی عظمت عطا کی۔ امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعی ؒاور امام احمد بن حنبل ؒکے درمیان متعدد فقہی اختلافات موجود تھے، مگر ایک دوسرے کے احترام میں کبھی کمی نہ آئی۔ کسی نے دوسرے کی نیت پر حملہ نہیں کیا، نہ اس کی دیانت کو مشکوک بنایا۔بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں اختلاف کا مطلب دشمنی سمجھ لیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مسئلے میں مختلف رائے رکھتا ہے تو فوراً اس پر فتوے، الزامات اور طعن و تشنیع کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔
سوشل میڈیا نے اس روئیے کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک ایک بے بنیاد الزام پہنچ جاتا ہے، لیکن اس کی تردید شاید کبھی اتنی وسعت سے نہیں پہنچ پاتی۔یہی وہ ’’بازاری لب و لہجے‘‘ ہیں جنہوں نے علمی وقار کو مجروح کر دیا ہے۔ بازار کی زبان جذبات سے چلتی ہے، علم کی زبان دلائل سے۔ بازار میں شور کامیابی سمجھا جاتا ہے، جبکہ علم کی دنیا میں خاموش تحقیق اور مہذب گفتگو اصل سرمایہ ہوتی ہے۔ جب اہل علم بھی بازاری لہجہ اختیار کر لیتے ہیں تو معاشرے کے عام افراد سے شائستگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟آج ہمیں اپنے طرزِ گفتگو پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہماری تحریریں اصلاح کے لئے لکھی جاتی ہیں یا کسی کو رسوا کرنے کے لئے؟ کیا ہماری تقریریں خیر خواہی کا پیغام دیتی ہیں یا نفرت کو ہوا دیتی ہیں؟ کیا ہمارے اختلافات امت کو جوڑتے ہیں یا مزید تقسیم کرتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہر صاحبِ قلم، صاحبِ منبر اور صاحبِ رائے کو اپنے ضمیر سے لینا چاہیے۔اسلام نے اختلاف کو ممنوع قرار نہیں دیا بلکہ اختلاف کے آداب سکھائے ہیں۔ قرآن کریم نے بہترین انداز میں گفتگو کرنے کی تعلیم دی، رسول اکرم ﷺ نے نرم کلامی، حلم اور عفو و درگزر کو مومن کی شان قرار دیا، جبکہ صحاب کرام رضی اللہ عنہم نے اختلاف کے باوجود اخوت اور احترام کی ایسی مثالیں قائم کیں جو رہتی دنیا تک مشعلِ راہ ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اختلاف کو ذاتی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے حق کی تلاش کا ذریعہ بنائیں۔ اگر کسی کی بات درست ہو تو اسے قبول کرنے میں تامل نہ کریں، اور اگر کسی کی رائے غلط معلوم ہو تو اس کی اصلاح شائستگی اور احترام کے ساتھ کریں۔ کردار کشی، بہتان، تحقیر اور تمسخر نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہیں بلکہ امت کے اجتماعی نقصان کا بھی باعث بنتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ الفاظ صرف آواز نہیں ہوتے، یہ معاشروں کی تعمیر بھی کرتے ہیں اور انہی سے معاشرے ٹوٹتے بھی ہیں۔ ایک تلخ جملہ برسوں کی محبت ختم کر سکتا ہے، جبکہ ایک نرم لفظ دلوں کو جوڑ سکتا ہے۔ اس لئے قلم اٹھانے سے پہلے، زبان کھولنے سے پہلے اور سوشل میڈیا پر کچھ لکھنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ہمارے الفاظ امت میں خیر پیدا کریں گے یا شر؟حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کا یہ پیغام آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور زندہ محسوس ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی امت میں اتحاد، علمی وقار اور دینی اخوت کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اختلاف کو تہذیب کے دائرے میں واپس لانا ہوگا۔ دلیل کو دلیل سے جواب دینا ہوگا، الزام کو نہیں۔ شخصیت پرستی اور شخصیت کشی دونوں انتہاں سے بچنا ہوگا۔ مخلص کی غلطی کو بھی علمی انداز میں بیان کرنا ہوگا اور مخالف کی درست بات کو بھی انصاف کے ساتھ قبول کرنا ہوگا۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ امت کی پگڑیاں اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتیں جب تک ہماری زبانیں مہذب نہیں ہوتیں، اور علمی ماحول اس وقت تک بحال نہیں ہو سکتا جب تک بازاری لب و لہجوں کی جگہ اخلاق، حلم، دیانت اور انصاف کو نہیں دی جاتی۔ یہی اکابر کا راستہ تھا، یہی امت کی ضرورت ہے، اور یہی ہمارے مستقبل کی ضمانت بھی۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ قوموں کی فکری اور اخلاقی تعمیر صرف مضبوط دلائل سے نہیں بلکہ مہذب رویوں سے بھی ہوتی ہے۔ جب معاشرے میں برداشت، حسنِ ظن اور باوقار مکالمے کی روایت پروان چڑھتی ہے تو اختلاف بھی خیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ لیکن جب زبان تلخ، لہجہ تحقیر آمیز اور مقصد صرف مخالف کو نیچا دکھانا رہ جائے تو علم اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ آج ہمیں اپنے اکابر کی اسی روایت کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اختلاف ہو مگر احترام کے ساتھ، تنقید ہو مگر انصاف کے ساتھ، اور گفتگو ہو مگر اخلاق و شائستگی کے دائرے میں۔