اجازت نامہ

بزرگ کہا کرتے تھے کہ رزق اللہ دیتا ہے اور یقینا سچ بھی یہی ہےلیکن معلوم ہوا کہ اب اس میں ایک انتظامی ترمیم ہو چکی ہے۔اس تک پہنچنے کے راستے میں کئی ادارے، کئی فارمولے، چند کمیٹیاں اور ایک آدھ عالمی ادارہ بھی آن بیٹھاہے چنانچہ اب اگر کوئی پوچھ بیٹھے کہ پٹرول سستا کیوں نہیں ہوتا تو جواب معیشت کے حوالے سے نہیں بلکہ اجازت نامے کے حوالے سے دیاجاتا ہے ۔وزیرِ پیٹرولیم نے فرمایا کہ پٹرول پر عائد لیوی کم کرنے میں ایک مشکل یہ ہے کہ آئی ایم ایف شاید راضی نہ ہو البتہ اگر متبادل ذریعہ مل جائے تو بات بن سکتی ہے۔ ہمارے ہاں ایک زمانہ تھا جب ہر مشکل کا ذمہ دار موسم ہوتا تھا۔ گرمی زیادہ پڑ جائے تو موسم قصوروار، بارش کم ہو تو موسم بے وفا۔ پھر ایک دور آیا جب ہر ناکامی کی گرد سابقہ حکومتوں پر ڈال دی جاتی تھی۔ اب سہولت یہ ہے کہ ہر سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ آئی ایم ایف مانے گا نہیں!
یہ سوال شاید اس لیے بھی پیدا ہوتا ہے کہ عوام نے کبھی نہیں سنا کہ حکومتی اخراجات کم نہ کرنے پر کسی عالمی ادارے نے ناراضی کا اظہار کیا ہو۔ پروٹوکول کی گاڑیاں پوری آب و تاب سے چلتی رہتی ہیں، سرکاری آسائشوں کا موسم بھی ہمیشہ معتدل رہتا ہےمگر جیسے ہی عام آدمی کے حصے میں چند روپے کی سہولت کا امکان پیدا ہو، معیشت اچانک نازک مزاج ہو جاتی ہے۔یوں لگتا ہے کہ ہمارے ہاں کفایت شعاری ایک نہایت بااصول خاتون ہے۔ وہ صرف غریب کے گھر جاتی ہے۔ امیر محلوں میں اس کا داخلہ شاید ممنوع ہے۔پھر ایک اور دل آویز وضاحت سامنے آئی کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی منڈی کے سات روزہ اوسط نرخوں کی بنیاد پر مقرر کی جاتی ہیں۔ بات علمی بھی ہے، سائنسی بھی اور اطمینان بخش بھی۔ صرف ایک چھوٹی سی الجھن ہے، اور وہ ہےعوام کی یادداشت ۔
یہ یادداشت بڑی بدتمیز چیز ہے۔ اسے یاد رہتا ہے کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہمارے ہاں اوسط شاید دوڑ لگا دیتی ہے۔ سات دن کا سفر چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہےلیکن جب قیمتیں نیچے آتی ہیں تو یہی اوسط چھڑی پکڑ کر آہستہ آہستہ چلنے لگتی ہےجیسے گھٹنوں میں برسوں کا درد ہو۔حساب کا یہ کمال شاید وہی سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے ریاضی میں صرف نمبروں سے نہیں، حالات سے بھی کام لینا سیکھا ہو۔عوام بھی اب کم تجربہ کار نہیں رہے۔ وہ سرکاری بیان سنتے ہیں، پھر پٹرول پمپ کے بورڈ کو دیکھتے ہیں، پھر خاموشی سے اپنی موٹر سائیکل کی ٹینکی میں اتنا ہی پٹرول ڈلواتے ہیں جتنے میں اگلے دو دن گزارے جا سکیں۔ ہمارے ہاں اب پٹرول صرف ایندھن نہیں رہا، گھریلو بجٹ کا نفسیاتی امتحان بھی بن چکا ہے۔
اس سارے قصے میں سب سے دلچسپ کردار ترجمانوں کا ہے۔ان کے پاس ہر سوال کا جواب پہلے سےموجودہےاورجواب نہ بھی ہو تو گھڑ لیا جاتا ہے۔ وہ ایسی مہارت سے مشکل فیصلوں کو خوشخبری بنا کر پیش کرتے ہیں کہ کبھی کبھی آدمی کو اپنے ہی خالی بٹوے پر شک ہونے لگتا ہے۔ محسوس یوں ہوتا ہے جیسے مہنگائی ہماری جیب پر نہیں، صرف اعداد و شمار میں آئی ہو۔گراف اوپر جا رہے ہوں تو اسے ترقی کہا جاتا ہے، نیچے آئیں تو اسے اصلاحات کا نام دے دیا جاتا ہے۔عام آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ آخر وہ کس ملک میں رہتا ہےکیونکہ اس کی روزمرہ زندگی اور سرکاری بیانات کے درمیان فاصلہ بعض اوقات لاہور اور لندن سے بھی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
پھر ہمیں یہ نصیحت بھی سننے کو ملتی ہے کہ قوموں کو صبر سے کام لینا چاہیے۔ صبر یقیناً بڑی نعمت ہے لیکن صبر کی بھی ایک معاشیات ہوتی ہے۔جب باورچی خانے میں آٹے کا ڈبہ خالی ہونے لگے، بچوں کی ضروریات بڑھتی جائیں اور تنخواہ اپنی جگہ سے ہلنے پر آمادہ نہ ہو تو فلسفہ کم اور حساب زیادہ یاد آتا ہے۔شاید اسی لیے عوام اب تقریروں سے زیادہ قیمتوں کے بورڈ پڑھتے ہیںکیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اصل خبر وہی ہے جو پٹرول پمپ، کریانے کی دکان اور سبزی منڈی میں لکھی ہے، باقی سب محض تشریح ہے۔
ادھر آٹے اور گندم کی اپنی الگ ہی داستان ہے۔ کبھی خبر آتی ہے کہ اربوں روپے کا آٹا غائب ہوگیا۔آدمی سوچتا ہے کہ آخر اتنی بوریاں پیدل چل کر کہاں جا سکتی ہیں؟ پھر کسی اور صوبے سے اطلاع ملتی ہے کہ چوہوں نے گوداموں میں دھاوا بول دیا۔ہمارے چوہے بھی خاصے باوقار معلوم ہوتے ہیں۔ انہیں بازار کی دکانوں پر رکھا آٹا پسند نہیں آتا، نہ کسی مزدور کے گھر کا تھیلا۔ ان کا ذوق صرف سرکاری گوداموں تک محدود ہے۔ یہ ایسے نفیس مزاج چوہے ہیں جو شاید نقصان بھی قواعد و ضوابط کے مطابق کرتے ہیں۔اس کے بعد گندم درآمد کرنے کی خبر آتی ہے، پھر وضاحتیں، پھر تحقیقات، پھر کمیٹیاں، پھر یقین دہانیا ں اور آخر میں اگلے موسم کا انتظار۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں بحران پیدا نہیں ہوتے، ملازمت کرتے ہیں۔ ایک بحران کی مدت پوری ہوتی ہے تو دوسرا حلف اٹھا لیتا ہے۔اصل سوال مگر وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ آخر ایسے مافیا ہر دور میں اتنے طاقتور کیوں رہتے ہیں؟ اگر ریاست کے پاس عام شہری کے بجلی کے بل کا مکمل ریکارڈ موجود ہے، ایک موٹر سائیکل کی رجسٹریشن تک محفوظ ہے تو پھر اربوں کے ذخیرے آخر ہوا میں کیسے تحلیل ہو جاتے ہیں؟ اگر چوری ہوتی ہے تو چور کہاں جاتے ہیں؟ اگر غفلت ہوتی ہے تو اس کی قیمت ہمیشہ عوام ہی کیوں ادا کرتے ہیں؟شاید اس لیے کہ عوام اس ملک کی سب سے باحوصلہ مخلوق ہیں۔ وہ احتجاج بھی کرتے ہیں، ٹیکس بھی دیتے ہیں، مہنگائی بھی برداشت کرتے ہیں اور اگلے دن پھر وقت پر کام پر بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی قوتِ برداشت کو شاید قومی وسائل میں شامل کر لینا چاہیے۔
ریاست اور عوام کا رشتہ صرف محصولات کا نہیں، اعتماد کا بھی ہے۔ اعتماد تب پیدا ہوتا ہے جب قربانی سب کی مشترکہ ہو۔ اگر حکومت عوام سے کہتی ہے کہ حالات مشکل ہیں تو عوام اس بات کو سمجھتے ہیںمگر وہ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ مشکل صرف ان کے دروازے پر کیوں دستک دیتی ہے۔کاش کبھی ایسا بھی ہو کہ کسی سرکاری پریس کانفرنس میں یہ اعلان سنائی دے کہ ہم نے سب سے پہلے اپنے اخراجات کم کیے ہیں، اب عوام سے تعاون کی درخواست ہے۔یقین جانیےاس ایک جملے کا اثر شاید پٹرول کی قیمت میں چند روپے کمی سے بھی زیادہ ہوگا۔ قومیں صرف بجٹ سے نہیں، انصاف کے احساس سے چلتی ہیںاور انصاف کی سب سے اچھی تشریح یہی ہے کہ جب کشتی بھاری ہو جائے تو چپو سب چلائیںصرف مسافر ہی پانی نہ نکالتے رہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *