سندھ طاس بھارت
|

سندھ طاس: بھارت کے اقدام کا عالمی پہلو

سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بھارت کا یک طرفہ فیصلہ اب صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور تنازع نہیں رہا۔ بین الاقوامی میڈیا اور پالیسی جرائد میں شائع ہونے والی حالیہ تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فیصلے کو اس بڑے سوال کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مشترکہ دریاؤں سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کس حد تک ریاستوں کی سیاسی ترجیحات سے متاثر ہو سکتی ہے۔ پاکستان شروع دن سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ایک قائم شدہ قانونی انتظام ہے اور کسی ایک فریق کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی صوابدید پر اسے معطل کر دے۔ اب یہی نکتہ بین الاقوامی بحث میں بھی نمایاں ہو رہا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی اہمیت سمجھنے کے لیے پاک بھارت تعلقات کی پوری تاریخ دہرانے کی ضرورت نہیں۔ اتنا جان لینا کافی ہے کہ دونوں ملک کئی جنگوں سے گزرے، سفارتی تعلقات بارہا خراب ہوئے اور باہمی اعتماد تقریباً ہر دور میں کسی نہ کسی امتحان سے گزرا لیکن پانی کا نظام ایک معاہدے کے تحت چلتا رہا۔ اس معاہدے کی بنیادی افادیت یہی تھی کہ اس نے پانی کو سیاسی تعلقات کے اتار چڑھاؤ سے کسی حد تک الگ رکھا۔ اب بھارت کی جانب سے اسے یک طرفہ طور پر معطل رکھنے کے فیصلے نے اسی انتظام کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ بھارت کے پاس اپنے سیاسی اور سلامتی سے متعلق دلائل ہو سکتے ہیں لیکن کوئی بھی دلیل خود بخود بین الاقوامی معاہدے کی ذمہ داری ختم نہیں کر دیتی۔ اگر کسی فریق کو معاہدے پر اعتراض ہے تو اس میں طے شدہ راستے موجود ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ریاست خود یہ طے کر سکتی ہے کہ جب تک اس کے مطلوبہ حالات پیدا نہیں ہوتے، وہ معاہدے کی ذمہ داریوں سے دستبردار رہے گی؟ اگر ایسا اصول تسلیم کر لیا جائے تو معاہدوں کی قوت ان کی شقوں میں نہیں بلکہ فریقین کی وقتی رضامندی میں رہ جائے گی۔
پاکستان کے لیے یہ بحث محض قانونی نہیں۔ دریائے سندھ کا نظام اس ملک کی زراعت، خوراک، روزگار اور مجموعی معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان نے اسی لیے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تقریباً 24 کروڑ پاکستانیوں کی آبی سلامتی سے جوڑا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں فصل کا نتیجہ پانی کی دستیابی سے وابستہ ہو، پانی کے بارے میں غیر یقینی کو معمولی سفارتی مسئلہ نہیں کہا جا سکتا۔ نہر میں پانی کم ہونے کا اثر کھیت سے شروع ہو کر منڈی، خوراک کی قیمت اور عام گھر کے بجٹ تک پہنچتا ہے۔اقرا حسین نے اقوام متحدہ کے حوالے سے اپنی تحریر میں اسی پہلو کو نمایاں کیا ہے۔ ان کی توجہ اس حقیقت پر ہے کہ سندھ طاس معاہدے کا معاملہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے ذرائع معاش، خوراک اور موسمیاتی خطرات سے جڑا ہوا ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو پاکستان کا مؤقف محض یہ نہیں کہ بھارت نے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی ہےبلکہ یہ بھی ہے کہ اس اقدام کے انسانی اور معاشی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت بالائی دھارے پر ہے اور پاکستان زیریں دھارے پر۔ جغرافیہ نے دونوں کے درمیان ایک قدرتی عدم توازن ضرور پیدا کیا ہےمگر بین الاقوامی قانون کا مقصد ہی یہ ہے کہ جغرافیائی طاقت کو مکمل اختیار میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ یوریشیا ریویو میں عمیر خان نے بھی اسی سوال کو اٹھایا ہے کہ مشترکہ دریاؤں پر بالائی دھارے کی ریاست کی بالادستی کی کوئی حد ہونی چاہیے یا نہیں۔ ان کے استدلال کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پانی کسی ملک کی حدود میں داخل ہونے کے بعد دوسرے ملک کے جائز حقوق ختم نہیں کر دیتا۔ سندھ طاس کے معاملے میں یہ نکتہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر بالائی دھارے کی ریاست اپنے جغرافیائی مقام کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کر سکتی ہے تو زیریں دھارے کے ملک کا تحفظ آخر کس بنیاد پر ہوگا؟ پاکستان کے پاس بھارت کے مقابلے میں پانی کے جغرافیے کی وہ طاقت نہیں جو بھارت کے پاس ہے۔ اس کا سہارا معاہدہ اور اس کے تحت قائم قانونی طریقۂ کار ہی ہے۔ معاہدہ کمزور ہوگا تو طاقت کا یہ فرق مزید نمایاں ہو جائے گا۔’’ماڈرن ڈپلومیسی‘‘ میں ثنا خان نے اس خدشے کو ایک اور زاویے سے دیکھا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر ’’منجمد‘‘ رکھنے کا معاملہ صرف اس لیے اہم نہیں کہ اس سے پاکستان متاثر ہوتا ہےبلکہ اس لیے بھی کہ دنیا کے کئی خطوں میں ایسے دریا موجود ہیں جو ایک سے زیادہ ملکوں سے گزرتے ہیں۔ ان دریاؤں سے متعلق معاہدے اسی اصول پر قائم ہیں کہ پانی کو طاقت کے یک طرفہ استعمال سے محفوظ رکھا جائے۔ اگر ایک بالائی دھارے کی ریاست کو سیاسی تنازع کے دوران آبی معاہدہ روکنے کی گنجائش ملتی ہے تو دوسرے خطوں میں بھی یہی منطق آزمائی جا سکتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں یہ خطرہ پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی کے باعث مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی کمی کوئی نئی بات نہیںلیکن پانی نے اس عدم اعتماد کو براہِ راست انسانی زندگی سے جوڑ دیا ہے۔ سرحد پر کشیدگی کا اثر سیاست اور سفارت کاری تک محدود رہ سکتا ہےلیکن پانی کے نظام میں غیر یقینی پیدا ہو تو اس کے اثرات کسان، صنعت، بجلی اور خوراک تک پہنچتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی نے اس مسئلے کی حساسیت مزید بڑھا دی ہے۔ بدلتے بارشی نظام، سیلاب، خشک سالی اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث خطے میں پانی کی دستیابی پہلے ہی دباؤ میں ہے، ایسے میں مشترکہ آبی نظام کے قواعد کمزور کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ غیر یقینی میں اضافہ ہے۔ ’’کاؤنٹر کرنٹس‘‘ میں صائمہ افضل نے بھی سندھ طاس کے معاملے کو علاقائی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پانی اگر تزویراتی مقابلے کا حصہ بن گیا تو اس کے اثرات دونوں ملکوں کے تعلقات سے کہیں آگے جائیں گے۔
یوریشیا ریویو، ماڈرن ڈپلومیسی اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر شائع ہونے والی تحریروں میں بھارت کے اقدام کو محض دو طرفہ اختلاف نہیں سمجھا جا رہا بلکہ معاہداتی ذمہ داری، زیریں دھارے کے حقوق، مشترکہ دریاؤں کے انتظام اور علاقائی استحکام جیسے اہم سوالات بھی زیرِ بحث آ رہے ہیں۔ اگر بالائی دھارے کی ریاستوں کو سیاسی اختلاف کے وقت آبی معاہدے یک طرفہ طور پر غیر مؤثر بنانے کی اجازت مل جائے تو دنیا کے کئی حساس آبی تنازعات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ طاقت وقتی فائدہ دے سکتی ہےمگر قواعد کی کمزوری طویل مدت میں کسی کے حق میں نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب معاہدہ موجود، ذمہ داریاں طے اور تنازعات کے حل کا طریقہ کار بھی موجود ہے تو ایک فریق کو اسے یک طرفہ طور پر معطل رکھنے کی اجازت کیوں ہو؟سندھ طاس معاہدے کی اصل افادیت یہی ہے کہ سیاسی کشیدگی کے باوجود پانی کے معاملے کو قواعد کے تابع رکھا جائے۔ اگر بھارت سیاسی اختلاف کی بنیاد پر اسے یک طرفہ طور پر معطل کرتا ہے تو پاکستان کو قانونی اور سفارتی دلائل کے ذریعے دنیا کو باور کرانا ہوگا کہ مشترکہ پانی، مشترکہ قواعد کے بغیر محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یہ معاملہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *