دل کے ہسپتال نے دل خوش کر دیا
پرسوں شام میری بیٹی میجر ماہین اعجاز، جو گریسی لائنز، چک لالہ کینٹ میں رہائش پذیر ہے، نے ہمیں اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا۔ ہم ڈی ایچ اے سے گریسی لائنز، چک لالہ کے لئے روانہ ہوئے۔ تقریباً بیس منٹ کی ڈرائیو تھی۔ راستے میں معمول کی گفتگو ہوتی رہی، مگر گھر پہنچ کر گاڑی سے اترتے ہی میری توجہ ماں جی کی طرف مبذول ہو گئی۔ ان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا اور مجھے محسوس ہوا کہ وہ کچھ ڈان اور ڈھیلی سی ہیں۔وہ میرے ہاتھ کا سہارا لئے ڈرائنگ روم تک تو پہنچ گئیں، لیکن وہاں بیٹھتے ہی سانس پھولنے لگی۔ کچھ دیر صوفے پر بیٹھیں، پھر خواہش ظاہر کی کہ بیڈ پر لیٹنا چاہتی ہیں۔ دل میں ایک انجانا سا خدشہ پیدا ہوا۔ عمر بھی نوے برس ہے اور ایسی کیفیت کو معمولی سمجھنے کی گنجائش نہیں تھی۔کچھ دیر آرام کے بعد طبیعت قدرے سنبھلی تو میز پر کھانا لگ چکا تھا۔ سب نے اکٹھے ڈنر کیا، لیکن کھانے کے فورا ًبعد ماں جی کی طبیعت پھر خراب ہونے لگی۔ اس مرتبہ ہم نے کوئی خطرہ مول نہ لینے کا فیصلہ کیا اور فورا ہسپتال لے جانے کا سوچا۔گریسی لائنز، چک لالہ، پرانے ایئرپورٹ، یعنی موجودہ نور خان ایئربیس کے قریب واقع ہے۔
یہاں سے راولپنڈی کے بڑے ہسپتال تقریباً پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیو پر ہیں۔ ابتدائی خیال یہی تھا کہ ماں جی کو اے ایف آئی سی یا سی ایم ایچ لے جائیں۔ اسی دوران بیٹے کا فون آیا۔ اس نے مشورہ دیا کہ راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سب سے قریب ہے، اس لئے انہیں وہیں لے جائیں۔ اس نے ہسپتال کے انتظام اور علاج کے معیار کی بھی خاص طور پر تعریف کی۔چونکہ وہ خود چند برس قبل راولپنڈی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رہ چکا ہے، اس لئے شاید اسے اس ادارے کی کارکردگی اور شہرت کا براہِ راست اندازہ تھا۔ہم ماں جی کو لے کر گھر سے نکل ہی رہے تھے کہ ڈاکٹر قربان ، ایم ایس راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، کا فون آ گیا۔ غالبا ًبیٹے نے ان سے بات کر لی تھی۔ ان کے لہجے میں جو اپنائیت، محبت اور فکر مندی تھی، اس نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ میری آدھی پریشانی اسی وقت کم ہو گئی۔بڑے عہدے پر بیٹھا شخص اگر مریض کے اہلِ خانہ سے اس محبت اور خلوص سے بات کرے تو وہ محض ایک انتظامی رابطہ نہیں رہتا، ایک حوصلہ بن جاتا ہے۔ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر صداقت صاحب ڈیوٹی پر موجود تھے۔ انہوں نے جس خندہ پیشانی، ہمدردی اور اطمینان کے ساتھ ہمارا استقبال کیا، وہ میرے لئے ایک خوشگوار تجربہ تھا۔ ایمرجنسی میں طبی پروٹوکول کے مطابق ماں جی کے علاج کا آغاز ہوا اور پھر انہیں داخل کر لیا گیا۔اس کے بعد ہسپتال میں ماں جی کے داخلے کے دوران جس جس ڈاکٹر، نرس اور میڈیکل اسٹاف سے واسطہ پڑا، سب کا کنڈکٹ مثالی تھا۔ ہر شخص اپنے فرائض میں مصروف بھی تھا اور مریض کے لئے دستیاب بھی۔ کہیں عجلت نہیں، کہیں بے اعتنائی نہیں اور کہیں ایسا احساس نہیں ہوا کہ مریض محض ایک کیس ہے۔ ہر سطح پر پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انسانی ہمدردی بھی نظر آئی۔بطورِ خاص ڈاکٹر کاشف رف اور ڈاکٹر رضوان کا ذکر کیے بغیر یہ تحریر مکمل نہیں ہو سکتی۔ دونوں نہ صرف اپنے شعبے کے ماہر ڈاکٹرز ہیں بلکہ حسنِ اخلاق، شائستگی اور انسانیت کے بھی اعلیٰ مرتبے پر فائز دکھائی دئیے۔ ان کا مریض اور اس کے اہلِ خانہ سے بات کرنے کا انداز، تحمل سے سننا، صورتحال کو سمجھانا اور ہر مرحلے پر اطمینان دلانا میرے لئے خاص طور پر قابلِ تحسین تھا۔شاید میری خوشگوار حیرت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ فوجی ملازمت کے دوران اور ریٹائرمنٹ کے بعد میرا زیادہ تر تجربہ فوجی ہسپتالوں کا رہا ہے۔ صفائی، نظم و ضبط، انتظام اور پیشہ ورانہ مہارت کے حوالے سے فوجی ہسپتالوں کو ہمیشہ ایک معیار سمجھا جاتا رہا ہے۔ وفاقی یا صوبائی سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں عمومی تاثر اس کے برعکس رہا ہے۔لیکن راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ایک مریض کے تیماردار کی حیثیت سے میرے ذاتی تجربے نے میری یہ پرانی رائے بڑی حد تک بدل دی۔
راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی محض ایک ہسپتال نہیں بلکہ ایک منظم طبی ادارہ محسوس ہوتا ہے۔ جدید ترین طبی آلات اور مشینری کی دستیابی، صفائی ستھرائی، منظم آمدورفت، ایمرجنسی کے باہر ایمبولینس ڈراپ لین کا ہر وقت کلیئر رہنا اور پارکنگ کا بے ہنگم نہ ہونا، سب کچھ ایک مربوط نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ہسپتال کی عمارت کے سامنے خوبصورت سبزہ زار، فٹ پاتھ کے ساتھ جگہ جگہ بینچ اور کرسیاں بھی مریضوں اور تیمارداروں کے لئے ایک خوشگوار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں، لیکن ایک پریشان حال مریض اور اس کے لواحقین کے لئے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔مجھے ایک دو مرتبہ پمز جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ وہاں مریضوں کا غیر معمولی رش، کوریڈورز میں ہجوم اور ڈاکٹرز کے کمروں کے باہر مریضوں کا جمِ غفیر دیکھ کر گزرنا بھی دشوار ہو جاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ جب ایک ہسپتال پر اس قدر بوجھ ہو تو شور، بے ترتیبی اور انتظامی مشکلات بھی جنم لیتی ہیں۔اسی پس منظر میں راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا ماحول میرے لئے اور بھی حیران کن تھا۔مجھے یہاں کے طریق علاج نے بھی خاص طور پر متاثر کیا۔ ضروری لیبارٹری اور ریڈیالوجی ٹیسٹوں کے بعد متعلقہ ڈاکٹرز نے رپورٹس کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا۔ میں نے کسی ڈاکٹر کو عجلت میں نہیں دیکھا۔ جن سے بھی واسطہ پڑا، انہوں نے پہلے تحمل سے میری بات سنی، پھر نہایت حلیم اور سلجھے ہوئے انداز میں صورتحال کی وضاحت کی۔ایک لمحے کو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں پاکستان کے ایک سرکاری ہسپتال میں کھڑا ہوں۔یہ تاثر شاید اس لئے بھی اہم ہے کہ ہم بحیثیت قوم سرکاری اداروں کے بارے میں عموما شکوہ ہی کرتے ہیں۔ تنقید آسان ہے، مگر جہاں کوئی ادارہ خاموشی سے بہترین کام کر رہا ہو، وہاں اس کا اعتراف بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے میرے لئے ایک خوشگوار حقیقت آشکار کی ہے: اگر نیت درست ہو، قیادت مخلص ہو، نظام مضبوط ہو اور ڈاکٹرز و طبی عملہ اپنے پیشے کو محض ملازمت نہیں بلکہ خدمت سمجھیں تو سرکاری ادارہ بھی کسی بہترین نجی یا فوجی ادارے کا مقابلہ کر سکتا ہے۔یہ تجربہ اس امید کو بھی تقویت دیتا ہے کہ ہمارے سرکاری اداروں میں بہتری محض ایک خواب نہیں۔ جہاں اچھی قیادت، مثر نظام، میرٹ، نگرانی اور خدمت کا جذبہ موجود ہو، وہاں محدود وسائل کے باوجود ایک ایسا ادارہ وجود میں آ سکتا ہے جس پر نہ صرف مریض بلکہ پورا معاشرہ فخر کر سکے۔دل کے اس ہسپتال نے واقعی میرا دل خوش کر دیا۔اس ادارے کو چلانے والے، اسے بہتر بنانے والے اور مریضوں کو علاج کے ساتھ عزت، توجہ اور اطمینان فراہم کرنے والے ہر فرد کو میری طرف سے خراجِ تحسین، شاباش اور دعائیں۔دعا ہے کہ راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو مزید اپنا نام اور مقام دکھی انسانیت کی بہترین خدمت کے ذریعے بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر، وطنِ عزیز کے تمام طبی اداروں کو اسی معیار تک پہنچنے کی توفیق دے، تاکہ پاکستان کا شعبہ صحت عوام کی ضروریات، توقعات اور تمناں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔اللہ تعالیٰ ہمارے تمام طبی اداروں کے ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اور انتظامی عملے کو خدمتِ خلق کے اس جذبے کو مزید آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے وطن کے ہر بیمار اور مجبور انسان کو باعزت، معیاری اور بروقت علاج میسر آئے۔آمین۔