ریاست کے پہیوں
|

ریاست کے پہیوں پر عیاشی ،آبادی کا بوجھ

کبھی کبھی کسی قوم کے زوال کی پوری داستان کسی بڑے اسکینڈل، کسی آئینی بحران یا کسی جنگ میں نہیں چھپی ہوتی، بلکہ ایک معمولی سی چیز میں چھپی ہوتی ہے۔ مثلاً ایک سرکاری گاڑی میں۔ گاڑی بظاہر لوہے، ربڑ اور شیشے کا ایک مجموعہ ہے، مگر جب اس پر سبز نمبر کی پلیٹ لگ جاتی ہے تو وہ محض گاڑی نہیں رہتی، ریاستی اختیار، سرکاری مراعات اور قومی خزانے کی ایک چلتی پھرتی علامت بن جاتی ہے۔اگر مغربی ممالک کے ترقی یافتہ ممالک اور اپنے غریب ملک کی مرکزی Government Car Service کی گاڑیوں کا عددی جائزہ لیا جائے تو حیرتناک اعداد و شمار سامنے آتے ہیں ۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق برطانوی وزراء اور اعلی حکام کی مخصوص مرکزی کار سروس 108 کے لگ بھگ ہے۔جبکہ ان اعداد کا پاکستان کے وزراء اور افسروں کی گاڑیوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں اصل تعداد یا کتنی کے زمرے میں سب سے افسوس ناک جواب شاید یہی ہے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں۔یہ “معلوم نہ ہونا” معمولی بات نہیں۔ یہ خود ایک قومی المیہ ہے۔ وفاقی وزارتیں اپنی گاڑیاں رکھتی ہیں، صوبائی حکومتوں کے اپنے بیڑے ہیں، پولیس کے الگ، ضلعی انتظامیہ کے الگ، محکمہ صحت، تعلیم، آبپاشی، زراعت، جنگلات، بلدیاتی اداروں، سرکاری جامعات، خودمختار اداروں اور سرکاری کمپنیوں کے الگ۔ پھر ایسی گاڑیاں بھی ہیں جو سرکاری محکموں کے نام پر ہیں مگر ان کے استعمال کا دائرہ سرکاری دفتر کی چار دیواری سے بہت دور تک پھیلا ہوا ہے۔یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ گاڑیاں کتنی ہیں۔سوال یہ ہے کہ کس کے پاس ہیں؟ کیوں ہیں؟ کس مقصد کے لیے ہیں؟ کون استعمال کرتا ہے؟ کتنے گھنٹے چلتی ہیں؟ کتنا پٹرول کھاتی ہیں؟ مرمت پر کتنا خرچ آتا ہے؟ ڈرائیور کی تنخواہ کتنی ہے؟ اور ان میں سے کتنی واقعی ریاستی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہیں اور کتنی مراعات کی فہرست میں آتی ہیں ؟ہم نے شاید کبھی اس سوال پر کبھی پوری سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں۔ ایک گاڑی اپنے ساتھ اخراجات کا ایک پلندہ لاتی ہے ۔فرض کریں حکومت ایک افسر کو ایک گاڑی دیتی ہے۔ بظاہر حکومت نے صرف ایک گاڑی دی۔ مگر حقیقت میں اس افیسر کو ایک مکمل پیکیج سے نوازا گیا۔گاڑی کی خریداری، رجسٹریشن، انشورنس، ڈرائیور، پٹرول، آئل، ٹائر، بیٹری، سروس، مرمت، پارٹس، سرکاری گیراج اور پارکنگ ۔اگر گاڑی افسر کے گھر کھڑی ہے تو اس کے دفتر آنے جانے کا خرچ بھی قومی خزانے سے۔ اگر سرکاری گاڑی اہل خانہ کے استعمال میں ہے تو اس کا حساب الگ۔ اگر گاڑی ہفتہ وار تعطیل میں بھی چلتی ہے تو سوال الگ۔ اگر پٹرول کا حساب کاغذوں پر مکمل ہے مگر سڑک پر گاڑی کا سفر کچھ اور وسعت آمیز کہانی روپ دھار لیتا ہے ۔یعنی سرکاری گاڑی دراصل ایک مستقل ماہانہ بوجھ بن جاتی ہے اور پاکستان جیسے ملک میں، جہاں حکومت ہر چند ماہ بعد مالی مشکلات، قرضوں، خسارے اور کفایت شعاری کی دہائی دیتی ہے، یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ قومی خزانہ آخر کن کن پہیوں کو گھما رہا ہے؟ کفایت شعاری بھی عجیب شے ہے ،ہماری حکومتیں جب معاشی بحران میں آتی ہیں تو کفایت شعاری کمیٹی بناتی ہیں۔کاغذ آتا ہے۔اعلان ہوتا ہے۔نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے۔کچھ عرصے کے لیے سرکاری گاڑیاں کھڑی کرنے کا حکم نامہ جاری ہو جاتا ہے۔پھر حالات معمول پر آتے ہیں اور گاڑیاں دوبارہ سڑکوں پر دندناتے لگتی ہیں۔مارچ 2026 میں وفاقی حکومت نے وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں کی 60 فیصد گاڑیاں دو ماہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ اس امر کا واضح اعتراف تھا کہ حکومتی نظام میں گاڑیوں کا ایک ایسا وسیع فلیٹ موجود ہے جس کے بڑے حصے کو عارضی طور پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر 60 فیصد گاڑیاں دو ماہ تک کھڑی رہ سکتی ہیں تو پھر وہ پہلے کس ضرورت کے تحت چل رہی تھیں؟اور اگر وہ واقعی ضروری تھیں تو انہیں دو ماہ کے لیے کیسے کھڑا کر دیا گیا؟ ریاست کو کبھی اس سوال کا جواب دینا چاہیے۔سندھ کا پرانا عدد بھی کم حیران کن نہیں۔ چند برس پہلے سندھ کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک عدالتی کارروائی میں 12 ہزار سے زائد گاڑیاں مختلف سرکاری محکموں اور تقریباً چار ہزار گاڑیاں سندھ پولیس کے نام پر رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف ہوا ۔ ۔ مزید تشویش ناک بات یہ تھی کہ ہزاروں سرکاری گاڑیوں کی رجسٹریشن کا معاملہ بھی واضح نہیں تھا۔یہ آج کا عدد نہیں، اس لیے اسے آج کی صورتِ حال قرار دینا درست نہیں ہوگا۔لیکن یہ ایک آئینہ ضرور ہے۔اگر ایک صوبہ برسوں پہلے ہی سرکاری گاڑیوں کی اس تعداد کے ساتھ موجود تھا اور اس کے علاوہ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کا سوال بھی اٹھ رہا تھا تو پورے پاکستان کے لیے ایک جامع، شفاف اور تازہ inventory کی ضرورت کتنی شدید ہوگی؟مگر شاید ہم اعداد سے گھبراتے ہیں۔کیونکہ عدد سامنے آ جائے تو سوال پیدا ہو جاتا ہے ۔اور سوال پیدا ہو جائے تو جواب دینا پڑے گا۔برطانیہ کا اصل مقصد برطانیہ کو مثالی ریاست قرار دینا مقصود نہیں۔ وہاں بھی سرکاری گاڑیوں کا پورا نظام وسیع ہے اور امریکی وفاقی فلیٹ تو لاکھوں میں ہے۔ اصل سبق تعداد کا نہیں، نظام کا ہے۔ وہاں یہ معلوم کرنا نسبتاً آسان ہے کہ مرکزی حکومت کے پاس کس نوعیت کی گاڑیاں ہیں، کون سا ادارہ انہیں چلاتا ہے، ان کے استعمال کے قواعد کیا ہیں اور سرکاری فلیٹ کے انتظام پر کتنی لاگت آ رہی ہے۔ہماری مصیبت یہ ہے کہ سرکاری گاڑی اکثر انتظامی ضرورت اور افسرانہ استحقاق کے درمیان ایک دھندلا سا علاقہ بن جاتی ہے۔ جس دن گاڑی دفتر کی ضرورت سے نکل کر عہدے کی شان بن جائے۔
(جاری ہے)

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *