کوئی امید برنہیں آتی
گزشتہ چند ماہ سے پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں کا اڈی ٹپا جاری وساری ہے جس طرح میراثیوں نے ہلکی ہلکی ڈھولکی بجا کر اپنا بیمار ابا مار دیا تھا اسی طرح حکومت نے ڈیزل پٹرول کی قیمتوں میں ہلکا ہلکا اضافہ کرکے پٹرول کی قیمت 384 روپے 34 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 415 روپے 83 پیسے تک پہنچا دی ہے اب لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے کے بجائے یہ پوچھتے ہیں کہ آج پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کتنے روپے اضافہ ہوا ہے۔ بات اگر صرف ڈیزل پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ تک ہی رہتی تو شاید عوام یہ ستم بھی سہہ لیتی لیکن جس طرح ہر روز پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اسی طرح روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں جس دن جتنا اضافہ ہوا ہے اس کی تفصیل نذر قارئین ہے۔ بروز پیر پٹرول 13 روپے ڈیزل 4 روپے، بروز منگل پٹرول 6 روپے اور ڈیزل 5 روپے ،بروز بدھ پٹرول 4 روپے اور ڈیزل 7 روپے، بروز جمعرات پٹرول 4 روپے اور ڈیزل 6 روپے، بروز جمعہ پٹرول 6 روپے اور ڈیزل بھی 6 روپے مہنگا ہوا ہے۔ عوام دعا کریں کہ حکومت کہیں نمازوں کے اوقات فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کے ساتھ ڈیزل پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ نہ کر لے۔ حکومت میں شامل تھنک ٹینک کی دماغی صلاحیتوں کی داد دینی پڑتی ہے کہ جو باریک کاریگری کے ماہر ہیں ،حکومت کو ایسے ایسے قیمتی مشوروں سے نواز رہے ہیں کہ بے اختیار تالیاں بجانے کا دل کرتا ہے۔ جو صارف200 سے زائد ایک یونٹ بھی استعمال کرے گا اسے بل میں ہزاروں روپے کے اضافے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں ایک واقعہ بھی نظر سے گزرا ہے جس کے مطابق نویں کلاس کے ایک طالب علم نے ایک فلاحی ادارے کے سربراہ کو مالی امداد کی درخواست دی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ بجلی کے استعمال پر ہمارے گھر میں روزانہ جھگڑا ہوتا ہے کیونکہ والد دن کے اوقات میں کسی کو بھی پنکھا چلانے کی اجازت نہیں دیتے اور رات کو بھی جب ہم سب بہن بھائی سوئے ہوئے ہوتے ہیں تو والد پنکھا بند کر دیتے ہیں، دن تو کسی نہ کسی طرح گزر ہی جاتا ہے لیکن رات کو شدید گرمی ہمارے لئے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی۔ والد کا کہنا ہے کہ اگر ہم لوگ دن رات پنکھا چلائیں گے تو یقیناً بل دو سو سے زائد یونٹ کا آئے گا۔ اس لئے ہماری مالی امداد کی جائے تاکہ ہم گرمی کے چند مہینوں میں بجلی کا بل باآسانی ادا کر سکیں یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ گھر گھر کی کہانی ہے لیکن یہ کہانی سننے والا کوئی نہیں ہے۔
خیر سے اب حکومت نے ایک اور انقلابی فیصلہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے وہ یہ کہ توانائی اور ایندھن کی بچت کرنے کیلئے ہفتے میں چار دن کام اور باقی تین دن آرام کیا جائے۔ادارے اور کاروبار زندگی بند کر دیئے ہیں لیکن اپنی عیاشیاں ختم نہیں کرنی۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نظر سے گزری ہے جس میں کوئی خوش قسمت شخصیت تقریباً 25 سیاہ لینڈ کروزروں اور کالے ڈالوں کے پروٹوکول میں دندنا رہی ہے، جبکہ درجن بھر ہیوی موٹر سائیکل اس کے علاوہ ہیں سوچیئے جب عوام یہ مناظردیکھتی ہو گی تو اس سے دل پر کیا گزرتی ہوگی کیونکہ ان لیڈروں نے تو عوام کے مسائل حل کرنے تھے ان کی زندگیوں کو آسان اور سکھی بنانا تھا۔ خدانخواستہ ملک میں کہیں دہشت گردی کا واقعہ ہو جائے تو موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی لگا دو، بجلی اور سوئی گیس کی قلت ہے تو ان کی لوڈشیڈنگ شروع کر دیں۔ حتیٰ کہ عوام اپنی حفاظت کا انتظام بھی خود ہی کرے۔ جس طرح ایک زمانے میں جب بس میں سوار ہوتے تھے تو سب سے پہلے جس عبارت پر نظر پڑتی تھی وہ یہ ہوتی تھی کہ سواری اپنے سامان کی حفاظت خود کرے نقصان کی صورت میں کمپنی ذمہ دار نہ ہوگی۔ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی رو سے لیوی ٹیکس ختم یا کم نہیں کیا جاسکتا، حکومت نے 75 ارب روپے کی سبسڈی کا اطلاق تو کر دیا ہے لیکن اس کیلئے جو طریقہ کار واضح کیا گیا ہے وہ انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایک صحافی دوست کے مطابق وہ رجسٹریشن کے لئے میسج کرنے کی کوشش میں اپنا دو سو روپے کا بیلنس گنوا بیٹھا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں سو روپے کا ریلیف حاصل کرنے کے لئے جو وظیفہ بتایا گیا ہے اس کے مطابق 6 لاکھ سے زائد افراد نے اپنا پیغام بھیجا ہے۔ لیکن ان میں سے صرف 42933 خوش نصیبوں کا وظیفہ منظور قبول ہوا ہے کیونکہ پٹرول میں رعایت حاصل کرنے کیلئے جو شرائط رکھی گئی ہیں ان کے مطابق بہت کم تعداد میں لوگ اس سہولت سے استفادہ کر سکیں گے۔ ایک سیانڑیں پاکستانی کے مطابق کہ اگر 75 ارب کی سبسڈی ہی دینی تھی تو پھر پٹرول مہنگا کرنے کی کیا ضرورت تھی کبھی یہ امید ہوتی تھی کہ شاید کبھی حالات بہتر ہو جائیں عوام سکھی ہو جائیں لیکن موجودہ صورتحال کے پیش نظر اب امید بھی دم توڑ رہی ہے۔ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ کوئی امید ہی نہیں آتی۔