بادشاہ سلامت جوتے
|

بادشاہ سلامت! جوتے مارنے والے سپاہی بڑھا دیجیے

بادشاہتیں ہمیشہ تلوار کے زور پر قائم نہیں رہتیں۔ بعض بادشاہتیں عوام کی خاموشی کے سہارے بھی برسوں چلتی رہتی ہیں۔ ظالم حکمران کی سب سے بڑی طاقت اس کا لشکر، خزانہ یا دربار نہیں ہوتا، بلکہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب رعایا ظلم کو ظلم سمجھنا چھوڑ دیتی ہے اور اسے اپنی قسمت کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیتی ہے۔ایک پرانی حکایت ہے کہ ایک ریاست میں ایک ایسا ہی بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ عیاشی اس کا مشغلہ اور نئے نئے ٹیکس لگانا اس کا پسندیدہ کام تھا۔ عوام کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں، بازار میں مہنگائی کتنی ہے، مزدور کے گھر کا چولہا کیسے جلتا ہے اور کسان اپنی محنت کا کتنا پھل پاتا ہے، بادشاہ کو ان باتوں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ اسے صرف یہ فکر رہتی کہ خزانے میں زیادہ سے زیادہ رقم کیسے جمع کی جائے۔ایک روز ریاست میں ایک نیا پل تعمیر ہوا۔ پل بننا عوام کے لیے خوشی کی خبر تھی، مگر بادشاہ نے اس سہولت میں بھی آمدنی کا ایک نیا ذریعہ تلاش کر لیا۔اس نے وزیر کو بلایا اور حکم دیا، ’’پل سے گزرنے والے ہر شخص پر ایک روپیہ ٹیکس لگا دو۔‘‘اگلے دن پل پر ٹیکس وصول ہونا شروع ہوگیا۔ لوگ آتے، ایک روپیہ ادا کرتے اور خاموشی سے گزر جاتے۔ نہ کسی نے سوال کیا، نہ احتجاج، نہ فریاد۔بادشاہ نے وزیر سے پوچھا، ’’لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘وزیر نے جواب دیا، ’’حضور! کچھ نہیں کہہ رہے۔‘‘بادشاہ خوش ہوا اور بولا، ’’تو پھر ٹیکس دس روپے کر دو۔‘‘ٹیکس دس روپے ہوگیا۔ مگر رعایا پھر بھی خاموش رہی۔ لوگ آتے، دس روپے دیتے اور اپنے کام پر چلے جاتے۔ نہ کوئی ہڑتال ہوئی، نہ کوئی وفد آیا اور نہ کسی نے بادشاہ کے فیصلے پر اعتراض کیا۔بادشاہ کو اب حیرت ہونے لگی۔ اس نے سوچا شاید دس روپے بھی عوام کے لیے کوئی بڑی رقم نہیں۔ چنانچہ اس نے ظلم کی ایک نئی حد مقرر کردی۔ حکم دیا کہ پل سے گزرنے والا ہر شخص دس روپے ٹیکس دے گا اور ساتھ اسے دو جوتے بھی مارے جائیں گے۔اب پل پر سپاہی کھڑے کردیے گئے۔ ہر شخص آتا، دس روپے ادا کرتا، دو جوتے کھاتا اور خاموشی سے اپنے گھر چلا جاتا۔دن ہفتوں میں بدل گئے۔ ظلم روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا۔پھر ایک دن چند بزرگ شہری بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوئے۔ بادشاہ کے چہرے پر خوشی نمودار ہوئی۔ اسے لگا کہ آخرکار رعایا جاگ گئی ہے۔ شاید یہ لوگ ٹیکس ختم کرنے یا جوتے بند کروانے کی درخواست کریں گے۔بادشاہ نے پوچھا، ’’کہو، کیا تکلیف ہے؟ ٹیکس زیادہ ہے؟ دس روپے کم کردوں؟ جوتے مارنے کا حکم واپس لے لوں؟‘‘وفد کے سربراہ نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا، ’’نہیں حضور! ہمیں ٹیکس یا جوتوں سے کوئی شکایت نہیں۔ ہماری صرف ایک چھوٹی سی درخواست ہے۔‘‘بادشاہ نے حیرت سے پوچھا، ’’پھر کیا چاہتے ہو؟‘‘بزرگ نے عرض کیا، ’’حضور! پل پر جوتے مارنے والے صرف دو سپاہی ہیں۔ اس وجہ سے بہت لمبی قطار لگ جاتی ہے اور ہمیں اپنے کام پر پہنچنے میں دیر ہوجاتی ہے۔ مہربانی کرکے جوتے مارنے والے سپاہیوں کی تعداد بڑھا دیجیے تاکہ ہم جلدی جلدی جوتے کھا کر اپنے کام پر جا سکیں۔‘‘بادشاہ نے سر پکڑ لیا۔حکایت یہاں ختم ہوجاتی ہے، مگر اصل کہانی شاید یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ہم اس واقعے پر ہنس سکتے ہیں، اسے ایک لطیفہ سمجھ سکتے ہیں، مگر ذرا ٹھہر کر سوچیں تو یہ ہنسی ہمیں بے چین کرنے لگتی ہے۔ کیا اس حکایت کا بادشاہ صرف ایک خیالی کردار ہے؟ کیا اس کی رعایا صرف ایک افسانوی ریاست میں رہتی تھی؟شاید نہیں۔اس قصے کا سب سے خوفناک پہلو جوتے نہیں بلکہ خاموشی ہے۔ٹیکس ایک روپے سے دس روپے ہوا، خاموشی برقرار رہی۔ دس روپے کے ساتھ جوتے شامل ہوئے، خاموشی برقرار رہی۔ یہاں تک کہ ظلم معمول بن گیا اور لوگوں نے ظلم ختم کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے اسے زیادہ تیزی سے برداشت کرنے کا انتظام مانگ لیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں ظلم صرف حکمران کی عادت نہیں رہتا بلکہ معاشرے کی نفسیات بن جاتا ہے۔ظلم کی ایک عجیب خاصیت ہے۔ ابتدا میں وہ انسان کو تکلیف دیتا ہے، پھر عادت بن جاتا ہے اور آخرکار معمول محسوس ہونے لگتا ہے۔ پہلے ناجائز ٹیکس پر غصہ آتا ہے، پھر انسان کہتا ہے، ’’چلو، یہ بھی دے دیتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد وہ زیادتی کو برداشت کرنا سیکھ لیتا ہے اور ایک وقت آتا ہے جب اسے زیادتی کے خاتمے سے زیادہ اس کے آسان طریقۂ کار کی فکر ہونے لگتی ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جب انسان صرف اپنا حق نہیں کھوتا، بلکہ اسے اپنے حق کا احساس بھی کم ہونے لگتا ہے۔معاشروں کی تباہی صرف غربت، مہنگائی یا ٹیکسوں سے نہیں ہوتی۔ ان سے بھی بڑے خطرات بے حسی، مایوسی اور اجتماعی خاموشی ہیں۔ہم اکثر کہتے ہیں، ’’میرے گھر کا کام ہوجائے تو مجھے کیا۔‘‘’’میرا بل ادا ہوگیا تو باقی لوگوں کی فکر کیوں کروں؟‘‘’’میرے بچے کا داخلہ ہوگیا ہے، نظام کیسا ہے، اس سے مجھے کیا؟‘‘’’میری دکان چل رہی ہے، دوسروں کے مسائل سے میرا کیا تعلق؟‘‘یہی ’’مجھ سے کیا‘‘ کسی معاشرے کو اندر سے کمزور کرتا ہے۔حقوق صرف اپنے لیے نہیں ہوتے۔ اگر آج کسی دوسرے شہری کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اور ہم یہ سوچ کر خاموش رہتے ہیں کہ ہمیں تو کچھ نہیں ہوا، تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ناانصافی کا سفر کسی ایک دروازے پر ختم نہیں ہوتا۔ایک مہذب معاشرے میں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا مطلب ہنگامہ یا قانون شکنی نہیں۔ شہری اپنے سوالات آئینی، قانونی اور پُرامن ذرائع سے اٹھا سکتے ہیں۔ عدالتیں، پارلیمان، صحافت، عوامی نمائندے اور پُرامن احتجاج—یہ سب شہری آواز کے راستے ہیں۔اصل ضرورت شور کی نہیں، شعور کی ہے۔باشعور شہری جانتا ہے کہ ٹیکس دینا اس کی ذمہ داری ہوسکتی ہے، لیکن یہ پوچھنا بھی اس کا حق ہے کہ عوام سے لیا گیا پیسہ کہاں خرچ ہورہا ہے۔ ووٹ ڈالنا صرف ایک دن کا عمل نہیں؛ منتخب نمائندوں سے کارکردگی کا حساب مانگنا بھی شہری ذمہ داری ہے۔ قانون کی پابندی ضروری ہے، مگر قانون کی آڑ میں ہونے والی زیادتی پر سوال اٹھانا بھی ضروری ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رویہ پیدا ہوچکا ہے۔ ہم ظلم سے اتنا نہیں گھبراتے جتنا اس بات سے گھبراتے ہیں کہ کہیں ہم ظلم کے خلاف بولنے والے پہلے شخص نہ بن جائیں۔ہم دوسروں کے بولنے کا انتظار کرتے ہیں۔پھر دوسروں کو بھی خاموش دیکھ کر خود خاموش رہتے ہیں۔اور یوں ایک پوری قوم ’’پہلا قدم کون اٹھائے؟‘‘ کے سوال میں اپنی آواز کھو دیتی ہے۔حالانکہ بڑی تبدیلیاں ہمیشہ بڑے نعروں سے شروع نہیں ہوتیں۔ کبھی ایک سوال سے شروع ہوتی ہیں، کبھی ایک انکار سے اور کبھی کسی ایک شہری کے یہ کہنے سے کہ ’’یہ درست نہیں ہے۔‘‘اس حکایت کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ بادشاہ ظالم تھا۔ ظالم حکمران ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ رعایا نے ظلم ختم کرنے کے بجائے اسے زیادہ مؤثر بنانے کی درخواست کی۔یہی مقام ہمیں اپنے معاشرے سے ایک بنیادی سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے:ہمیں جوتے مارنے والے سپاہیوں کی تعداد بڑھانے کی فکر ہے یا جوتے مارنے کا نظام ختم کرنے کی؟اگر ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتی کچھ زیادہ سہولت سے ہو، تو مسئلہ صرف حکمران کا نہیں رہتا۔ لیکن اگر ہم یہ سوال کرنا سیکھ جائیں کہ ’’یہ زیادتی ہو ہی کیوں رہی ہے؟‘‘ تو شاید کہانی کا اگلا باب مختلف ہوسکتا ہے۔ریاستیں صرف حکمرانوں سے نہیں بنتیں، شہریوں سے بھی بنتی ہیں۔ اچھی حکمرانی کے لیے جواب دہ حکمران ضروری ہیں، مگر باشعور شہری بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ ادارے اسی وقت مضبوط ہوتے ہیں جب عوام اپنے حقوق اور فرائض دونوں سے واقف ہوں۔خاموش رہنا بعض اوقات حکمت ہوسکتی ہے، لیکن ہر ظلم پر خاموش رہنا حکمت نہیں، کمزوری بن جاتا ہے۔اور کمزور معاشرے میں ظالم حکمران کو کسی بڑے لشکر کی ضرورت نہیں پڑتی۔اسے صرف خاموش رعایا چاہیے۔سو سوال یہ نہیں کہ بادشاہ کتنا ظالم ہے۔سوال یہ ہے کہ رعایا کب تک خاموش رہے گی؟کیونکہ جس دن رعایا یہ کہنا چھوڑ دے گی کہ ’’جوتے مارنے والے سپاہی بڑھا دیجیے‘‘ اور یہ پوچھنا شروع کردے گی کہ ’’ہمیں جوتے مارنے کا اختیار آپ کو کس نے دیا؟‘‘، اسی دن ظلم کی بنیادیں ہلنا شروع ہوجائیں گی۔اور شاید یہی کسی بھی زندہ معاشرے کی پہلی نشانی ہے کہ وہ صرف ظلم برداشت نہیں کرتا بلکہ اس کے خلاف پُرامن، قانونی اور اجتماعی انداز میں سوال کرنا بھی جانتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *