عالمی ضبط تحمل
|

عالمی ضبط و تحمل کی اپیل

اس سے پہلے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اجتماعی قتل و غارت کی جنگ کو بھڑکا کر انسانیت کا صفایا ہو جائے تباہ کن عالمی جنگ کے بادل اور ہوائیں ۔ انسانیت ایک خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی تنازعات، فوجی محاذ آرائی، جدید ہتھیار، مصنوعی ذہانت اور ایٹمی طاقت ایسی صورتِ حال پیدا کر رہے ہیں جس میں ایک علاقائی جنگ بہت جلد سب کے قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔مسیحی روایت میں آرماگیڈن اور اسلامی روایات میں الملحم الکبری تباہ کن جنگوں کے حوالے سے گہری تنبیہ کا تصور پیش کرتے ہیں۔ ان کی مذہبی تشریحات مختلف ہیں، لیکن ہمارے عہد کے لیے ایک مشترک سبق واضح ہے: جب دشمنی اور انتقام بے قابو ہو جائیں تو تباہی فاتح اور مغلوب دونوں کو نگل سکتی ہے۔
آج خطرہ اس لئے کہیں زیادہ سنگین ہے کہ جنگی فیصلے پہلے سے زیادہ تیزی سے کیے جا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، ڈرون، خودکار ہتھیار اور سائبر نظام جنگ کی رفتار بڑھا سکتے ہیں، مگر مشین کے پاس انسانی رحم، ضمیر اور اخلاقی ذمہ داری نہیں ہوتی۔زندگی اور موت کے فیصلوں پر انسانی اختیار اور جواب دہی ہمیشہ برقرار رہنی چاہیے۔ایٹمی جنگ کا خطرہ سب سے خوفناک ہے۔ ایک بار ایٹمی ہتھیار استعمال ہو گئے تو تباہی سرحدوں میں قید نہیں رہے گی۔ آگ، تابکاری، ماحولیاتی تباہی اور غذائی بحران دور دور تک انسانوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ہوا پاسپورٹ نہیں رکھتی۔ تابکاری سرحد نہیں پہچانتی۔
کسی قوم کی مکمل تباہی کو مکمل فتح سمجھنا ایک خطرناک فریب ہے۔ جب شہر ملبے میں بدل جائیں، زمین زہر آلود ہو، خاندان اجڑ جائیں اور آنے والی نسلیں نفرت ورثے میں پائیں تو ایسی فتح کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟غصہ حکمتِ عملی نہیں، اور تباہی امن نہیں۔
سیاسی اور فوجی رہنماں کو چاہیے کہ غرور، خوف اور انتقام کو ناقابلِ واپسی فیصلوں پر غالب نہ آنے دیں۔ مخالفین کے ساتھ بھی رابطے کے دروازے کھلے رکھے جائیں، کیونکہ دشمنی جتنی شدید ہو، سفارت کاری اتنی ہی ضروری ہو جاتی ہے۔ خودکار ہتھیاروں، فوجی مصنوعی ذہانت اور ایٹمی فیصلہ سازی پر سخت بین الاقوامی حفاظتی اصول ضروری ہیں۔مذہبی رہنمائوں کو بھی جنگی پیش گوئیوں کو خوف یا اشتعال پیدا کرنے کے لئے نہیں، بلکہ عاجزی، رحم، توبہ اور امن کی دعوت کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔
غزہ، تل ابیب، دمشق، تہران، بیروت، بغداد یا کسی بھی جگہ کا بچہ یکساں انسانی وقار رکھتا ہے۔ اپنے بچے کو کھونے والی ماں کا غم نہ قومیت دیکھتا ہے، نہ زبان اور نہ مذہب۔اللہ تعالیٰ ، جو سب سے زیادہ مہربان اور تمام انسانیت کا خالق ہے، اقتدار رکھنے والوں کو حکمت اور سخت دلوں کو رحم عطا فرمائے۔
حقیقی طاقت صرف حملہ کرنے میں نہیں، بلکہ ضرورت کے وقت حملہ روک دینے کی حکمت میں بھی ہے۔انسانیت کو انتقام اور اجتماعی تباہی کے راستے کو مسترد کرنا ہوگا۔سفارت کاری کو زندہ رکھیں۔جنگی فیصلوں کو انسانی اختیار میں رکھیں۔ایٹمی ہتھیاروں کو میدانِ جنگ سے دور رکھیں۔اور سب سے بڑھ کر یاد رکھیں،ہر پرچم، ہر قوم اور ہر مذہب کے پیچھے ایک ہی انسانی خاندان ہے۔
اب بھی ہمارے پاس دوسرا راستہ موجود ہے۔
انتقام کے بجائے حکمت چنیں۔فنا کے بجائے ضبط و تحمل چنیں۔اور شعلے بے قابو ہونے سے پہلے زندگی کا انتخاب کریں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *