اسلام آباد کے شہریوں کا قصور ؟
حافظ نعیم نے اسلام آباد دھرنا اکتوبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردیا ہے۔ حافظ نعیم کا یہ اقدام ان کی سیاسی بصیرت کی علامت ہے۔ کسی اور کے لیے بنائے گئے آتش کدہ میں اپنے کارکنوں کو جھونک دینا کسی طور پر عقل مندی نہ ہوتی ہے۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جو اپنے کارکنوں کی باپ کی طرح حفاظت کرے۔ سیاست میں کارکن صرف ہجوم نہیں ہوتے، وہ کسی جماعت کا سرمایہ ہوتے ہیں اور لیڈر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ انہیں غیر ضروری تصادم سے بچائے۔سوال البتہ یہ ہے کہ بامقصد سیاسی ڈائیلاگ سے اگر جماعت اسلامی کا مارچ کو موخر کروایا جا سکتا ہے تو یہ آپشن پی ٹی آئی کے لیے کیوں نہیں ؟ اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت کوشش کر رہی ہے، پی ٹی آئی کے سنجیدہ افراد سے بات چیت ہوئی بھی ہے، بیرسٹر گوہر نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے، لیکن تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کہ سیاست، مفاہمت اور مکالمے کی گنجائش ہی نہیں۔ اقتدار میں تھی تو اپوزیشن برداشت نہیں تھی، آج اپوزیشن میں ہے تو حکومت سے بات کرنے کو تیار نہیں اور اگر کوئی لیڈر بات کر بھی لے تو یو ٹیوبرز کا ریورڈ گھیر لیتا ہے، ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا رزق روٹی گالی سے وابستہ ہے، اگر مصالحت کا کوئی راستہ نکل آیا، معاملات بات چیت کی جانب چل نکلے تو وہ کمائیں گے کہاں سے اور کھائیں گے کیا؟
اسلام آباد شہر کی آبادی12 لاکھ کے قریب ہے۔ اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کے زیر نگرانی کل آبادی 24 لاکھ اور راولپنڈی کی آبادی 34 لاکھ کے قریب ہے۔ دونوں جڑواں شہروں کی کل آبادی اس طرح 58 لاکھ کے قریب ہے، جو بعض ملکوں کی آبادی سے زیادہ ہے۔ یہاں صرف اشرافیہ نہیں رہتی، اکثریت غریب عوام کی ہے جو دہاڑی دار اور محنت کش ہیں۔ کسی جماعت اور گروہ کو ان کی زندگیاں تہہ و بالا کرنے کا اختیار نہیں ، ان کے بچے سکول جاتے ہیں، ان کے گھر کا چولہا روز کی محنت سے جلتا ہے، ان کا کاروبار ایک دن بند ہو جائے تو گھر کا بجٹ متاثر ہوتا ہے اور راستے بند ہوں تو مزدوری تک خطرے میں پڑ جاتی ہے، نتیجہ بھوک بھی ہو سکتا ہے۔ سیاسی مفادات ،اور مفاداتی سازشوں کے لئے ان شہروں پر حملہ آور ہونے والا کوئی بھی ہو ، یہان کے عوام کا دوست نہیں دشمن ہے ۔ جماعت اسلامی نے بہت اچھا کیا، اپنا احتجاج انتشاریوںسے الگ کر دیا۔ وہ پٹرول پر عوام کے لیے ریلیف مانگ رہے ہیں، جس کا تعلق براہ راست عوام سے ہے، جبکہ تحریک انصاف سزا یافتہ قیدی کے لیے ملک کو آگ لگانے جا رہی ہے، دونوں کا کیا جوڑ ؟
جس جماعت کا صوبائی صدر لاشیں اٹھانے اور دارالحکومت کو سومنات بنانے کی بڑھکیں مار رہا ہو، جس کے لیڈر شہر پر قبضے اور اقتدار چھین لینے کے نعرے لگا رہے ہوں،مرنے مارنے اور خون بہانے کی باتیں کی جا رہی ہوں ،تو اس سرگرمی کو عوام کے خیر خواہ کیسے مان لیا جائے ؟ سیدھی سی بات ہے، ایسے عناصر کو اسلام آباد پر چڑھائی کا موقع دیا ہی کیوں جائے، جن کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ دنگا فساد ہے ؟ ایک جانب صوبہ دہشت گردی کی آگ میں بھنک رہا ہے، امن و امان نام کی کوئی چیز نہیں اور حکومت وفاقی دارالحکومت پر لشکر کشی کی تیاریوں میں مشغول ہے، شہداء کے جنازوں میں شرکت کے لیے وقت نہیں، لیکن احتجاج کے نام پر انتشار کے لیے صوبے کے تمام وسائل وقف کیے جا رہے ہوں تو اسے کیا نام دیا جائے؟ یہ سوال صرف ایک جماعت سے نہیں بلکہ ان تمام لوگوں سے ہے جو اقتدار اور سیاست کو عوام کی زندگی سے بڑا سمجھنے لگتے ہیں۔
پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے، جڑواں شہروں میں ابھی سے خوف اور بے یقینی کی فضا ہے۔ اسلام آباد کے سکول ابھی سے بند کرنا پڑ گئے ہیں۔ اگر یہ دھاوا بولا جاتا ہے تو صرف تعلیم ہی نہیں، پورا نظام زندگی تلپٹ ہو کر رہ جائے گا۔ والدین اپنے بچوں کی فکر کریں گے، مزدور اپنے روزگار کی، دکاندار اپنی دکان کی اور مریض ہسپتال تک پہنچنے کے راستے کی۔ احتجاج بلا شبہ جمہوری حق ہے ،لیکن عوام کے لیے عذاب بن جانے کا حق نہیں ۔وفاقی حکومت سے بھی سوال ہے کہ آخر کب تک وفاقی دارالحکومت پوری دنیا کے سامنے تماشہ بنا رہے گا؟ کہ جس کے جی میں آتا ہے اٹھ کر پورے نظام کو بازیچہ اطفال بنا کر رکھ دیتا ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ’’کسی بھی نقصان کی صورت میں پوری ذمہ داری انتشاری قیادت پر ہوگی۔‘‘اگر ماضی میں ایسا کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا ہوتا تو آج کوئی مرنے مارنے کی باتے نہ کر رہا ہوتا ۔ ریاست کا کام صرف ذمہ داری کسی دوسرے کے سر ڈالنا نہیں، حالات کو اس نہج تک پہنچنے سے پہلے قابو کرنا بھی ہے۔معاملہ صرف اس بار کے پی ٹی آئی کے احتجاج کا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور حکمران کب اتنے بالغ ہوں گے کہ دنگا و فساد کے بغیر اپنی بات کہنے اور سننے کی تمیز سیکھ سکیں، مرنے مارنے کے بجائے مل بیٹھنے اور بات کرنے کا راستہ اختیار کر سکیں۔
پی ٹی آئی مارچ کی تیاریوں کے حوالے سے جو زبان استعمال کی جا رہی ہے، ریاست کو جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ان پر کارروائی نہ کرکے حکومت خود ان رویوں کو شہہ دینے کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اس آتش بیانی، الزام تراشی اور بہتان طرازی کا شکار ہو کر کوئی نوجوان کل کسی خطرے کا باعث بن جائے، اپنی جان خطرے میں ڈال لے یا کسی دوسرے کی جان کے لیے خطرہ بن جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ مار دھاڑ کے نعرے لگانے والے یا حکومت؟ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ذمہ داری دونوں پر عائد ہونی چاہیے۔حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے اب بھی راستہ موجود ہے۔ ایک طرف احتجاج کا حق ہے تو دوسری طرف عوام کے بنیادی حقوق ہیں۔ ایک طرف سیاسی مطالبات ہیں تو دوسری طرف ملک کا امن و امان ہے۔ ان دونوں کے درمیان توازن پیدا کرنا ہی سیاسی قیادت کی اصل آزمائش ہے۔ کارکنوں کو آتش کدے میں جھونک دینا قیادت نہیں، انہیں بچاتے ہوئے اپنے سیاسی مطالبے کو آگے بڑھانا قیادت ہے۔ یہ وقت سیاست کو گالی، دھمکی اور سڑک کی طاقت سے نکال کر مکالمے کی میز پر لانے کا ہے۔ ورنہ ہر احتجاج اگلے احتجاج کو جنم دے گا، ہر تصادم اگلے تصادم کی بنیاد بنے گا اور سب سے زیادہ نقصان اسی عوام کا ہوگا جس کے نام پر سیاست کی جاتی ہے۔