بلوچستان، امید کی جانب کھلتی کھڑکی
بلوچستان کے بارے میں بہت کچھ لکھاجا چکا ہے۔ محرومیوں کی طویل فہرستیں، وسائل کی تقسیم کے شکوے، ترقی کے نامکمل وعدے، دور افتادہ بستیوں کی مشکلات اور ایک ایسی بے اطمینانی جو وقت کے ساتھ محض سیاسی مسئلہ نہیں رہی بلکہ کئی لوگوں کے لیے زندگی کا تلخ تجربہ بن گئی۔ ایک ایساصوبہ جس نے طویل عرصے تک اپنے حصے کی روشنی کم محسوس کی ہو اس کے لئے امید کی ایک چھوٹی سی کرن بھی بسااوقات غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ محرومی صرف سہولتوں کی کمی نہیں ہوتی، یہ رفتہ رفتہ انسان کے اندر سے اپنے مستقبل کا یقین ختم کر دیتی ہے لیکن معاشرے صرف اپنے زخموں سے تونہیں پہچانے جاتے، ان میں شفا پانے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے اور کبھی کبھی کسی معمولی سے واقعے میں اس صلاحیت کی جھلک دکھائی دے جاتی ہے۔ سوراب میں خواتین کے لیے منعقد ہونے والی گرینڈ کھلی کچہری بظاہر ایک انتظامی سرگرمی تھی مگر اس کے اندر اہم سماجی پیغام ہے کہ بلوچستان کی عورت اب اپنی ضرورت اور اپنے حق کی بات براہ راست اس نظام کے سامنے رکھ رہی ہے جس سے وہ سہولتوں کی توقع رکھتی ہے۔ سوراب کی اس نشست میں آنے والی خواتین نے کسی آسائش کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کے سوالات زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے جڑے ہوئے تھے۔ بجلی، گیس، صاف پانی، صحت، تعلیم، شناختی دستاویزات، سماجی تحفظ اور بچیوں کے لیے بہتر مواقع۔ ساتھ ہی فیملی پارک، پبلک لائبریری اور شاپنگ سینٹر جیسے مطالبات بھی سامنے آئے۔ ان تمام مطالبات کے پیچھے ایک ہی خواہش ہے کہ زندگی محض گزارنے کی چیز نہ ہو، اسے بہتر بھی بنایا جا سکے۔ یہ سب سے خوبصورت جہت ہے۔
کوئی معاشرہ مسلسل محرومی اور تنگ دستی میں مبتلا رہے تو اس کی گفتگو رفتہ رفتہ ضرورتوں تک محدود ہو جاتی ہے لیکن جب اس معاشرے کے لوگ لائبریری، پارک اور تعلیم کی بات کرنے لگیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر مستقبل کا تصور ابھی زندہ ہے۔ سوراب کی خواتین کی آواز میں یہی زندگی محسوس ہوئی ہے۔ وہ صرف یہ نہیں کہہ رہیں کہ انہیں کیا نہیں ملا، وہ یہ بھی بتا رہی ہیں کہ اپنے شہر کو وہ کیسا دیکھنا چاہتی ہیں۔ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ بہت مضبوط ہوتا ہے۔ یہ رشتہ کسی تقریر، اعلان یا منصوبے سے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اعتماد تبھی قائم ہوتا ہے جب شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی شنوائی ہورہی ہے، اس کی شکایت محض کاغذ پر درج نہیں ہوئی بلکہ اس پر کارروائی بھی ہوئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا خواتین کے مسائل سننا اور متعلقہ افسران کو ان کے حل کے لیے ہدایات دینا ریاست اور شہری کے مابین اسی اعتماد کی ایک کڑی ہے۔ یہ ایک قدم ہی سہی مگر طویل فاصلے ہمیشہ پہلے قدم ہی سے شروع ہوتے ہیں۔ اسی بلوچستان میں ایس او ایس ویلیج کی دس بچیوں نے ایک سالہ بیوٹیشن کورس مکمل کیا اور پہلی مرتبہ ان کی پیشہ ورانہ تربیت کی تکمیل پر باقاعدہ تقریب میں اسناد دی گئیں۔ ان بچیوں میں سے ہر ایک کی کہانی اپنے اندر محرومی کا ایک باب رکھتی ہوگی لیکن ان کے ہاتھوں میں موجود اسناد اس باب کا اختتام نہیں بلکہ ایک نیا آغاز ہے۔ کسی یتیم یا بے سہارا بچی کو تعلیم دینا یقیناً ایک عظیم ذمہ داری ہے مگر تعلیم کے ساتھ ہنر دینا اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ تعلیم اگر انسان کو دنیا کوسمجھنے کی صلاحیت دیتی ہےتو ہنر اسے دنیا میں اپنے لیے جگہ بنانے کی طاقت دیتا ہے۔ جب کوئی بچی پیشہ ورانہ مہارت سیکھتی ہے تو وہ روزگار کا امکان حاصل کرنے کےعلاوہ اپنے فیصلوں میں خود مختاری کی ایک بنیاد بھی حاصل کرتی ہے۔ یہی معاشی خودانحصاری ہے اور یہی کسی بھی فلاحی کوشش کی کامیابی بھی ہے۔ بلوچستان کی نوجوان نسل کو اسی احساس کی ضرورت ہے کہ ان کے اندر صلاحیت موجود ہے اور ریاست، معاشرہ اور ادارے اس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینا کافی نہیں، ہنر، تربیت، پیشہ ورانہ قابلیت اور بدلتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ خصوصاً خواتین کے لیے مواقع پیدا کرنا ایک پورے خاندان کی معاشی اور سماجی سمت بدل سکتا ہے۔
بلوچستان کی زمین پر گزشتہ برسوں کی محرومی کے نقش ابھی گہرے ہیں۔ برسوں کی کمی ایک دن میں پوری نہیں ہوتی اور چند اچھی خبریں طویل تجربے کو اگرچہ یکسر بدل تو نہیں سکتیں لیکن زندگی کی سمت بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑے واقعات ہی درکار نہیں ہوتے، کسی معمولی سے منظر میں بھی آنے والے کل کی دھیمی سی چاپ سنائی دے جاتی ہے۔ سوراب میں خواتین کی کھلی کچہری اور ایس او ایس ویلیج کی بچیوں کے ہاتھ میں آنے والا ہنر کسی بڑی تبدیلی کا دعویٰ تو نہیں مگر ایک خاموش امکان ضرور ہے کہ اس طویل جمود کے بیچ زندگی نے آگے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ یہ سمت بہت اہم ہے۔ اگر انتظامیہ عوام کے قریب آتی ہے، اگر خواتین اپنے مسائل کے ساتھ اپنی ترجیحات بیان کرتی ہیں، اگر بچیوں کو تعلیم کے ساتھ روزگار کے قابل ہنر دیا جاتا ہے، اگر بلوچ نوجوانوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کیا جاتا ہے تو یہ سب معمولی واقعات نہیں کہے جا سکتے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہیں کہ بلوچ نوجوان نظام سے باہر کھڑا ہوا فرد نہیں بلکہ اس کا حصہ ہے۔بلوچستان کے لوگوں کے شکوئوں کو نظرانداز کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ جن ملک دشمن قوتوں نے عوامی بے چینی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، اس کا سب سے موثرجواب بہتر حکمرانی، انصاف، مواقع اور عوامی شرکت ہے۔ ریاست جب شہری کی زندگی میں سہولت بن کر داخل ہوتی ہے تو بیگانگی کی وہ جگہ سکڑنے لگتی ہے جس میں منفی بیانیے پنپتے ہیں۔ اسی لیے ان دونوں واقعات کو ایک ہی تصویر کے دو حصوں کے طور پر دیکھنا چاہیے،شہری اپنی آواز کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں، مشکل حالات سے نکلتی ہوئی بچیاں اپنے ہاتھوں میں ہنر لے کر مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ ایک طرف ریاست سے توقع بھی ہے اور دوسری طرف اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی تیاری بھی ہے۔ بلوچستان کو یقین دہانیوں سے زیادہ عمل درکار ہے اور عمل کو تسلسل درکار ہے۔ آج کی ایک اچھی پیش رفت کل کی بڑی تبدیلی بنے گی۔ یہ سلسلہ قائم رہا تو آنے والے برسوں میں بلوچستان کا تعارف بی ایل اے اور دہشت گردی نہیں ہوگا۔ وہاں کے شہر اپنے بچوں کی تعلیم، نوجوانوں کے ہنر، خواتین کی شرکت، آباد بازاروں اور روشن مستقبل کے خوابوں سے پہچانے جائیں گے۔ تاریخ کے بڑے موڑ کسی بڑے اعلان کے ساتھ نہیں آتے۔ بلوچستان میں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی یہ چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں کھلتی رہیں تو ایک دن ہوا کا رخ بدل سکتا ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور باوقار زندگی کا راستہ دکھائی دینے لگے تو تشدد کی کشش خود کم ہونے لگتی ہے۔ بلوچستان کا مستقبل بندوق نہیں، ہنر لکھے گا۔