پیٹرول کی قیمت: ایک ماہ میں 59 روپے کا اضافہ، مہنگائی کا نیا طوفان
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایک ماہ کے قلیل عرصے میں پیٹرول کی قیمت میں 59 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے کا ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ملک بھر میں مہنگائی کی لہر مزید شدید ہو گئی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 14 اگست کو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 325 روپے 43 پیسے تھی جو اب بڑھ کر 384 روپے 34 پیسے تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 383 روپے 95 پیسے سے بڑھ کر 415 روپے 83 پیسے ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا نظام 18 جولائی 2026 سے رائج ہے جس کے تحت روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول 4 روپے 10 پیسے اور ڈیزل 6 روپے 41 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کر دیا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اوگرا کی سفارشات پر یہ اضافہ کیا گیا ہے، تاہم مسلسل اضافے کے باعث شہریوں کی قوت خرید بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور ہر طبقہ فکر شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔
وزیراعظم نے حال ہی میں موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ ڈرائیوروں سمیت چھوٹی گاڑیوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس ریلیف کے اثرات ظاہر ہونے سے قبل ہی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے تمام فوائد کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج بھی کیا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتیں حکومتی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنا رہی ہیں۔ عام شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے تاکہ عوام پر بوجھ کم ہو سکے۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل پر پڑتا ہے جس سے ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ افراطِ زر کو مزید بڑھا سکتا ہے جو معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔