مکہ مکرمہ تاریخ
| |

مکہ مکرمہ : تاریخ میں پہلی بار فضائی حملے کا ہنگامی الرٹ جاری

ریاض: سعودی سول ڈیفنس نے مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف سمیت مملکت کے مختلف شہروں میں فضائی حملے کے خطرے کے پیشِ نظر ہنگامی الرٹ جاری کر دیا۔

واضح رہے کہ تاریخ میں پہلی بار مقدس شہر مکہ کو فضائی خطرے کا سامنا کرنا پڑا جس سے عوام میں شدید تشویش پیدا ہوگئی۔

سعودی سول ڈیفنس نے گزشتہ روز شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام نے سوشل میڈیا پر واضح کیا کہ مکہ مکرمہ میں فضائی حملے کا خطرہ اب مکمل طور پر ٹل چکا ہے۔

دریں اچنا سعودی قیادت نے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کو ملکی خودمختاری کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ حالیہ حملوں میں تیرہ شہریوں کے زخمی ہونے اور کئی مکانات و گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس پر حکومت نے سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔

حوثیوں نے خمیس مشیط اور دیگر مقامات پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے جواب میں سعودی عرب نے اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے حملوں میں شدت نے پورے خطے کے امن و امان کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔

یمنی حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستوں کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔

اُدھر قطر نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم گزرگاہ کی بندش عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

سعودی عرب اب اپنی سیکیورٹی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے اور خطے میں پیدا ہونے والے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کر رہا ہے۔

علاوہ ازیں واشنگٹن کی جانب سے بھی سعودی عرب کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کی اطلاعات ہیں، تاہم حوثیوں کا کہنا ہے کہ یمنی کارروائیاں تب تک جاری رہیں گی جب تک سعودی مداخلت ختم نہیں ہوتی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *