کاشتکاروں سے بیماریوں کی تشخیصی ٹیسٹنگ کا معاوضہ نہ لینے کا اعلان

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھ میں زرعی تحقیق کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرنے، معاشی صورتحال کو بہتر بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے فصلوں کو بچانے کے لیے صوبائی حکومت نے بڑا قدم اٹھایا ہے، وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر نے ٹنڈوجام میں جدید زرعی تحقیقی لیبارٹریز کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے،ان لیبارٹریز کے قیام کا بنیادی مقصد کیلے کی فصل کو تباہ کرنے والی خطرناک پاناما وِلٹ (Panama Wilt) بیماری کی بر وقت تشخیص اور اسپیڈ بریڈنگ ٹیکنالوجی (Speed Breeding Technology) کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق گندم کی نئی اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام تیار کرنا ہے، افتتاحی تقریب میں سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو، ڈپٹی سیکریٹری خادم برڑو، زرعی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل مظہر الدین کیریو، نامور کاشتکار رہنما محمود نواز شاہ، ندیم شاہ جاموٹ، نبی بخش سیڑھیوں سمیت زرعی سائنسدانوں اور محکمہ زراعت کے دیگر افسران نے شرکت کی، تقریب کے دوران وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر کو زرعی تحقیق کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور خصوصی طور پر سواٹ (SWAT) منصوبے پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی،مفت تشخیصی سہولت اور تیز ترین مالیکیولر ٹیسٹنگتقریب سے خطاب اور بریفنگ کے دوران وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے کاشتکاروں کے لیے ایک بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کاشتکاروں سے بیماریوں کی تشخیصی ٹیسٹنگ کا کوئی معاوضہ نہیں لیا جائے گا یہ سروس مکمل طور پر بلا معاوضہ ہوگی، لیبارٹری میں جدید مالیکیولر اسٹڈی (Molecular Study) کے ذریعے کسی بھی بیماری یا وائرس کی تشخیص صرف دو گھنٹوں کے اندر ممکن بنائی گئی ہے، جدید آلات سے لیس اس لیبارٹری میں ایک ہی وقت میں 90 زرعی نمونوں (Samples) کی جانچ کی کیپیسٹی موجود ہے، وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے بتایا کہ کیلے کو لاحق پاناما بیماری پر قابو پانے کے لیے سائنسی بنیادوں پر تحقیقی منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کو درپیش موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اسپیڈ بریڈنگ ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جا رہا ہے تاکہ گندم کی ایسی پیشرس اقسام دریافت کی جا سکیں جو کم وقت اور سخت موسم میں بھی بہترین پیداوار دے سکیں،سردار محمد بخش مہر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں جعلی زرعی ادویات اور کھاد کا کاروبار کرنے والے مافیا کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں کی معاشی حالت بدلنا اور ان کے معاشی مفادات کا تحفظ کرنا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے، انہوں نے مزید کہا کہ سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے نہ صرف سندھ کا زرعی شعبہ مستحکم ہوگا بلکہ اس سے صوبے میں غذائی تحفظ (Food Security) اور پائیدار زرعی ترقی کی راہ ہموار ہوگی, دوسری جانب حیدرآباد میںوزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر نے حیدرآباد میں صوبے بھر کے کاشتکاروں کے ساتھ کھلی کچہری منعقد کی، وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر نے حیدرآباد میں صوبے کے تمام اضلاع سے آئے ہوئے ہاریوں اور کاشتکاروں کے ساتھ کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *