بلوچستان میں پائیدار امن کے تقاضے

پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے اور قوم کو یقین دلایا ہے کہ بلوچستان میں دیریا امن کا قیام یقینی بنایا جائے گا اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے جہاں بھی موجود ہوں انہیں ختم کیا جائے گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی۔ ایس۔ پی۔ آر) کے مطابق جی ایچ کیو راولپنڈی میں بیسویں قومی ورکشاپ کے دوران فیلڈ مارشل نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکاء سے ملاقات اور تبادلہ خیال کیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی کوششیں اور عوامی حمایت بوچستان میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گی، امن و استحکام کے لیے فورسز اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے، صوبے کے باہمت اور محب وطن عوام ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں پاکستان کو درپیش خطرات کا سبب بننے والے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ فتنۂ خوارج اور فتنہ ہندوستان کے خلاف کارروائیاں پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہیں گی، بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں تشدد کو ہوا دے رہے ہیں، یہ عناصر ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، حوصلے اور بھر پور تعاون سے ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیں گی۔ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، یہاں کے باہمت، محب وطن اور ثابت قدم عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہیں۔ قومی یکجہتی کے فروغ اور بلوچستان میں پائیدار امن و خوشحالی کے لیے سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، میڈیا اور نوجوانوں کا مثبت کردار قابل تعریف ہے۔ ملک کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، ثابت قدمی اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز صبح کوئٹہ سے تقریباً 50 کلو میٹر دور کوئٹہ۔ کراچی شاہراہ پر مستونگ کے علاقے سنگر میں ولی خان ریلوے پھاٹک کے قریب نامعلوم افراد نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیش جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سرکاری محافظ کو شہید کر دیا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ، مستونگ کے ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور سرکاری محافظ کے ہمراہ گاڑی میں کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ دہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں عبدالحکیم کاکڑ اور سرکاری محافظ محمد زمان موقع پر ہی دم توڑ گئے ۔ جب کہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد زخمی ہو گئے، حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔ ادھر محکمہ داخلہ بلوچستان نے امن و امان کے پیش نظر ضلع مستونگ کی سب تحصیل کھڈ کوچہ میں تاحکم ثانی کرفیو نافذ کر دیا۔ دریں اثناء دکی کے علاقے میں نامعلوم دہشت گردوں نے بارودی مواد سے تھانہ ترین کی عمارت کو اڑا دیا جس سے دیواریں اور کمرے منہدم ہو گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یاد رہے چند روز قبل تھانہ ترین پر حملے میں ایک اہلکار شہید اور 3 اہلکار زخمی ہو گئے تھے، اس حملے کے بعد مذکورہ تھانہ خالی کر دیا گیا تھا۔ اسی دوران سیکورٹی فورسز نے مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ، جہاں مکمل کرفیو نافذ ہے، میں بروقت اور فوری کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے چھے دہشت گردوں کو ہلاک جب کہ سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خود کش بمبار کو گرفتار کر لیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کامیابی سے جاری ہے، سیکورٹی فورسز کی موثر کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں، دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز کی موثر کارروائی میں دہشت گردوں کی متعدد کمین گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا، آپریشن کے دوران علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے۔ بلوچستان میں ہماری مسلح افواج کے جوان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے طویل عرصہ سے قربانیاں دے رہے ہیں مگر پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک دہشت گردی کے ناسور پر قابو نہیں پایا جا سکا اور دہشت گردانہ کارروائوں کے پے در پے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے گویا ’’مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی‘‘ کی کیفیت ہے جو ہر پاکستانی کے لیے تشویش اور تکلیف کا باعث ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد یقینا پاکستان خصوصاً بلوچستان کے عوام میں مایوسی پھیلانا اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنا ہے جب ریاست کے ایک اہم ستون عدلیہ کے سیشن جج کی سطح کے لوگ، جنہیں گن مین کا تحفظ بھی دستیاب ہو، قومی شاہراہ پر محفوظ نہ ہوں تو عام آدمی کا پریشان اور خوفزدہ ہونا فطری امر ہے۔ مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بیسویں قومی ورکشاپ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکاء سے گفتگو میں دہشت گردی کے خاتمہ اور پائیدار امن کے قیام کا عزم مستحسن ہے تاہم جیسا انہوں نے خود بھی کہا ہے کہ عوام کی غیر متزلزل تائید و حمایت سے بلوچستان میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جائے، حقیقت یہی ہے کہ قومی سلامتی کے ادارے خواہ کتنے بھی مضبوط اور پیشہ ورانہ مہارت کے حامل ہوں، عوام کے تعاون کے بغیر حتمی کامیابی کا تصور محال ہے اس لیے ضرورت ہے کہ 2014ء کے قومی ایکشن پلان، جس پر عملدر آمد کے نتیجے میں 2017-18 میں بڑی حد تک دہشت گردی کے ناسور پر قابو پا لیا گیا تھا، ایک بار پھر اسی طرز پر پوری قوم کی نمائندہ قوتوں، وہ پارلیمنٹ کے اندر ہوں یا باہر، سب کو اعتماد میں لے کر ایک متفقہ قومی لائحہ عمل اور حکمت عملی مرتب کی جائے اور پھر اس کی روشنی میں سیاسی، دینی، قبائلی، سماجی اور عسکری قیادت متحد اور متفق ہو کر دہشت گردی کی اس لعنت سے نجات کے لیے آگے بڑھے کیونکہ محض بندوق کے زور پر اس پر قابو پانا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس ضمن میں اس امر کا اظہار بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں کا کڑا محاسبہ بلاشبہ نہایت ضروری ہے خصوصاً ان کی سرپرستی کرنے والے ہمارے دشمن کے بیرونی ہاتھ کو پکڑنا اور اس کو توڑنا از بس ضروری ہے اور اس ضمن میں کوئی رعایت نہیں برتی جانا چاہیے تاہم اس معاملے میں یہ احتیاط بھی لازم ہے کہ سیاسی اختلاف کو کسی بھی صورت دہشت گردی سے خلط ملط نہ کیا جائے جو لوگ اپنے سیاسی، معاشی یا معاشرتی حقوق کی خاطر آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر پر امن جدوجہد کریں، ان کی بات جمہوری انداز میں سنی بھی جانا چاہیے اور ان کے مسائل کے حل اور شکایات کے ازالہ کا اہتمام بھی ریاست کو بہر صورت کرنا چاہیے اس کے برعکس طرز عمل اختیار کیا گیا تو ہم خود منفی عناصر کی تقویت کا باعث بنیں گے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *