امیر العظیم بھی رب عظیم کے حضور حاضر ہو گئے

مفکر اسلام، مفسر قرآن سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا تراشیدہ تحریک اسلامی کا ایک اور ہیرا آسودۂ خاک ہو گیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے سابق ناظم اعلیٰ اور ملک کی قدیم ترین جامعہ پنجاب کی طلبہ یونین کے سابق صدر امیر العظیم بدھ کی شب خالق و مالک کائنات، رب رحیم و کریم، قدیم و عظیم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہو گئے وہ طویل عرصہ سے سرطان جیسے موذی مرض سے لڑ رہے تھے، اس موذی مرض سے یہ لڑائی انہوں نے بلند حوصلے اور بے مثل استقامت سے لڑی اور جب تک بیماری نے بے دست و پا نہیں کر دیا وہ زندگی کی مصروفیات میں متحرک و فعال رہے اور اپنی تحریکی، سیاسی اور سماجی ذمے داریاں مستعدی سے ادا کرتے رہے۔ بلاشبہ وہ پاکستان ہی نہیں عالم گیر اسلامی تحریک کا قیمتی سرمایا تھے۔ اور پوری امت مسلمہ بلکہ انسانیت کا درد ان کے دل میں موجزن تھا۔ ان کی وفات سے ایک تاریخ ایک منفرد عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ احساس عظمت انسانیت کا ایک عظیم باب بند ہو گیا ہے:

موت سے کس کو رستگاری ہے … آج وہ کل ہماری باری ہے
ان کا صرف نام ہی امیر العظیم نہیں تھا وہ دل کے بھی نہایت امیر اور ذاتی کردار میں بہت عظیم تھے ان کی ذات اعلیٰ صفات کا خوبصورت مرقع تھی، چہرے پر ہمہ وقت منفرد اور مستقل مسکراہٹ ان کی شخصیت کی شناخت تھی، قلب و ذہن کا اطمینان ان کے چہرے سے جھلکتا تھا۔ شاید ہی کسی نے رنج و ملال کی کوئی جھلک ان کی پیشانی پر دیکھی ہو، وہ اپنے احباب اور اسلامی تحریک کے کارکنوں سے جس مضبوط بندھن میں بندھے ہوئے تھے وہ خون کے رشتوں سے کہیں زیادہ مستحکم و دیرپا ہے وہ آج اپنے ساتھیوں کے درمیان موجود نہیں مگر ان کی ملنسار طبیعت، عجزو انکسار اور ہمدردی و انکسار سے بھر پور زندگی پہاڑی کا وہ چراغ ہے جو تا دیر ان کے چاہنے والوں کے دلوں کو گرماتا اور تحریک کے کارکنوں کو راہ راست کی سمت رہنمائی کرتا رہے گا کہ وہ اپنی تحریک کی چلتی پھرتی دعوت تھے۔ ان کی شخصیت کا کمال، امیر العظیم کی عظمت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ اپنے تحریکی ساتھیوں کے تو دلوں میں تو بستے ہی تھے مگر تحریک کا جو مخالف بھی ان سے ملتا، ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا ملک بھر میں پھیلے ہوئے سیکولر اہل فکر و دانش، صحافی اور سیاسی کارکن ان کے اس وصف کا برملا اعتراف کرنے اور ان کی تحسین کرنے پر مجبور ہیں حتیٰ کہ جنرل ضیاء الحق کے فوجی مارشل لا میں جب طلبہ یونینوں پر آمرانہ پابندیاں عائد کی گئیں تو طلبہ کی زبردست احتجاجی تحریک کی جرأت مندی سے قیادت کرتے ہوئے کوٹ لکھپت جیل پہنچے تو یہاں پر قید سکھ قیدیوں سے ایسی دوستی کر لی کہ وہ آپ کے دیوانے ہو گئے اور تادم آخر بہت سے سکھ ان سے ملاقاتوں کے لیے آتے پائے گئے اور شاید سکھ برادری سے ان کی اسی قربت کا نتیجہ تھا کہ ان کے جنازہ کے موقع پر پنجاب کابینہ کے سکھ رکن بھی منصورہ میں موجود تھے۔ امیر العظیم کو اللہ تعالیٰ نے مالی آسودگی بھی عطا کی تھی چنانچہ وہ اپنے پرائے کی تفریق کیے بغیر خلق خدا کی فلاح و بہبود میں شب و روز مصروف رہتے، ان کا کٹر نظریاتی یا ذاتی مخالف بھی مشکل میں نظر آیا تو انہوں نے ہمیشہ آگے بڑھ کر اس کی پریشانی دور کرنے کا ہر ممکن سامان کیا، خدمت اور ایثار ان کا شعار تھا وہ درویش صفت طبیعت کے مالک تھے اور شاعر کی اس نصیحت پر تمام عمر عمل پیرا رہے کہ:۔

خدمت خدا و خلق ہے نشاط زندگی
تو شوق سے اس راہ میں جان و مال لگائے جا

امیر العظیم تین اکتوبر 1958ء کو اسلام پورہ (کرشن نگر) لاہور کے علاقہ میں وہاں کی ایک معروف و معزز شخصیت مرحوم فضل عظیم کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والدین پٹیالہ (مشرقی پنجاب) سے قیام پاکستان کے وقت ہجرت کر کے پہلے گجرات، پھر جھنگ اور بعد ازاں لاہور میں آ کر آباد ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اسلام پورہ لاہور میں حاصل کی اور اسلامیہ ہائی اسکول سنت نگر لاہور سے میٹرک کا امتحان پاس کیا جس کے بعد اس علاقہ میں واقع اسلامیہ کالج سول لائنز میں داخلہ لیا، جہاں سے بی ایس سی کرنے کے بعد جامعہ پنجاب سے کاروباری انتظامیات (ایم بی اے) کی ڈگری لی۔ یہیں سے بعد میں ایم اے سیاسیات بھی کیا۔ 1975ء میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوئے اور 27 ستمبر 1977ء کو باضابطہ رکن بنا لیے گئے جس کے بعد مختلف علاقائی ذمے داریاں ادا کرتے ہوئے لاہور جمعیت کے ناظم منتخب ہو گئے، پھر صوبائی معتمد اور چند ماہ مرکزی معتمد عام بھی رہے۔ 1982ء میں طلبہ یونین جامعہ پنجاب کے صدر منتخب کیے گئے۔ 1984ء میں جنرل ضیاء الحق نے طلبہ یونینوں اور طلبہ تنظیموں پر پابندیاں عائد کیں تو اس کی بھر پور مزاحمت کی اور مارشل لا ضابطوں کے تحت گرفتار کر کے کوٹ لکھپت جیل میں بھیج دیے گئے یہیں پس دیوار زنداں تھے کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان نے انہیں ناظم اعلیٰ منتخب کر لیا چنانچہ جیل ہی میں نظامت اعلیٰ کا حلف پڑھا، اگلے برس پھر دوبارہ انہیں ناظم اعلیٰ منتخب کر لیا گیا یوں اس دوران طلبہ تحریک کو منظم کرنے اور ملک گیر سطح پر جمعیت کو زندہ و فعال اور متحرک رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 22 اکتوبر 1988ء کو نظامت اعلیٰ کے منصب سے فراغت کے بعد جماعت اسلامی سے وابستہ ہو گئے اور ملک میں اسلامی انقلاب کے لیے اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں۔ پہلے لاہور جماعت کے ناظم نشرو اشاعت اور پھر قیم لاہور بھی رہے۔ 1989ء میں قاضی حسین احمد مرحوم نے انہیں جماعت کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا۔ 2006ء میں قیم اور 2008ء میں امیر کی حیثیت سے لاہور جماعت کی قیادت کی۔ اس دوران 2006ء ، 2010 اور 2013ء میں مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہوتے رہے اپریل 2014ء میں انہیں دوبارہ مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی ذمے داریاں سونپی گئیں۔ جب کہ اکتوبر 2018ء میں جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر اور اپریل 2019ء میں جماعت کے مرکزی قیم (سیکرٹری جنرل) مقرر کیے گئے اور تادم زیست اس ذمے داری پر فائز رہے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ’’فیوچر وژن‘‘ کے نام سے تشہیری ادارہ بھی قائم کیا جسے نہایت محنت سے جدید خطوط پر استوار کیا چنانچہ ملک کے ممتاز تشہیری اداروں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’’اسپیشل ٹیلی ویژن‘‘ کی بھی بنیاد رکھی جو ابھی ابتدائی مراحل میں تھا کہ خالق نے امیر العظیم صاحب کو اپنے پاس واپس بلا لیا۔ انہوں نے سرطان جیسے موذی مرض کے باوجود طویل عرصہ تک اپنی تمام ذمے داریاں عزم، حوصلے اور استقامت سے نبھائیں۔ ان کی وفات کی خبر اگرچہ غیر متوقع نہیں تھی، اس کے باوجود ان کے انتقال کی اطلاع ملنے پر فضا پر سکتے کی کیفیت طاری ہو گئی۔ ان کے جنازہ میں ملک بھر سے سیاسی و سماجی اور دینی شخصیات نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جنازہ کی نماز کے وقت منصورہ کی وسیع و عریض مسجد کے اندر اور باہر تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ ان کی دینی، سیاسی اور قومی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور حسنات کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں:۔

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *