پھٹتے ستارے سے نکلنے والی پراسرار گیس نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا
ماہرینِ فلکیات نے ہماری ملکی وے کہکشاں میں موجود ایک نہایت نایاب پھٹتے ہوئے ستارے سے انتہائی تیز رفتار گیس کے اخراج کا مشاہدہ کیا ہے، جسے انہوں نے بندوق کی گولیوں سے تشبیہ دی ہے۔
محققین کے مطابق اس غیر معمولی فلکیاتی مظہر کی مثال اس سے پہلے نہ ہماری کہکشاں میں دیکھی گئی اور نہ ہی کسی دوسرے معروف نووا میں ریکارڈ کی گئی۔
تحقیق کے مطابق اس ستارے سے خارج ہونے والی گیس تقریباً 2 کروڑ میل فی گھنٹہ کی حیرت انگیز رفتار سے سفر کر رہی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس رفتار اور انداز کا اخراج فلکیاتی تحقیق میں ایک منفرد دریافت ہے، جو نایاب ستاروں کے رویے کو سمجھنے میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
یہ انکشاف اس وقت ممکن ہوا جب وی 445 پیوپس نامی نایاب ہیلیم نووا کے گرد موجود گرد و غبار کا بادل ہٹ گیا۔ اس تبدیلی کے بعد 2 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے زیرِ نگرانی رہنے والے اس ستارے کی اصل ساخت اور سرگرمیوں کا تفصیلی مشاہدہ ممکن ہو سکا، جس نے ماہرین کو حیران کر دیا۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف واروک کے محققین نے تصدیق کی کہ وی 445 پیوپس ہماری کہکشاں میں اپنی نوعیت کا واحد معلوم ہیلیم نووا ہے۔ یہ نظام ایک وائٹ ڈوارف اور ایک نایاب ہیلیم ستارے پر مشتمل ہے، جہاں وائٹ ڈوارف اپنے ساتھی ستارے سے مادہ حاصل کرتا ہے، جس کے نتیجے میں غیر معمولی دھماکے رونما ہوتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گولیوں جیسے دکھائی دینے والے یہ گیس کے اخراج کس طبعی عمل کے تحت وجود میں آ رہے ہیں، تاہم ان کے مطابق یہ دریافت نایاب فلکیاتی دھماکوں، ہیلیم نووا کے ارتقا اور ستاروں کی پیچیدہ طبیعیات کو سمجھنے میں اہم سائنسی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔