بھارت میں طلبہ کا احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا، متعدد ریاستوں میں مظاہرے جاری
نئی دہلی: بھارت میں تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے معاملات پر شروع ہونے والا احتجاج دہلی سے نکل کر ملک کی مختلف ریاستوں تک پھیل گیا ہے۔
مختلف شہروں میں نوجوان مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں، جبکہ حکومت مخالف نعرے اور ذمہ داروں کے احتساب کے مطالبات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمندر پردھان سے استعفوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کیرالہ، اروناچل پردیش، تمل ناڈو، گوا، گجرات، بہار اور مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں احتجاجی ریلیاں اور اجتماعات دکھائے گئے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ تعلیمی نظام میں شفافیت یقینی بنانے اور مبینہ پیپر لیکس کی تحقیقات کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اسی تناظر میں کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے بھی حکومت سے احتساب کا مطالبہ سامنے آیا ہے، جبکہ احتجاج میں شریک طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ دہرایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرنے پر اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کو بھی پولیس نے حراست میں لیا۔ ان کی گرفتاری کے بعد مختلف اپوزیشن جماعتوں نے بھی احتجاجی مظاہرے کیے اور طلبہ کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔
کانگریس رہنما پریانکا گاندھی نے سیکیورٹی فورسز پر طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال اور خواتین کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے موجودہ صورتحال کو آمریت سے تشبیہ دی، جبکہ پارٹی کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
اُدھر انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی کہا ہے کہ سامنے آنے والی تصاویر بھارت میں پُرامن اختلافِ رائے کو دبانے سے متعلق تشویش کو مزید بڑھاتی ہیں۔