پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات بڑھانے کیلیے مراعات اور جدید فشنگ منصوبے تیار
اسلام آباد: حکومت نے پاکستان کی سی فوڈ برآمدات دگنی کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ ہدف سے زائد برآمدات کرنے والے ایکسپورٹرز کو ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی۔
جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ سی فوڈ کی برآمدات پہلے 400 ملین ڈالر تھیں۔ گزشتہ مالی سال برآمدات 563 ملین ڈالر تک پہنچیں، جو 500 ملین ڈالر کے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ویلیو ایڈیشن اور جدید طریقوں کے ذریعے برآمدات دگنی کرنے کی کوشش ہوگی۔ میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے ایکسپورٹرز کے لیے مراعات کا منصوبہ تیار کرکے ایف بی آر کو پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نئی سہولت سے چھوٹے اور بڑے تمام ایکسپورٹرز فائدہ اٹھا سکیں گے۔ حکومت انڈر انوائسنگ ختم کرنے کے ساتھ ملک میں ڈالر کی آمد بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
دوسری جانب حکومت پورٹس پر ملٹی پرپز ٹرمینل متعارف کرانے کی تیاری کررہی ہے۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ سمندری خوراک میں ویلیو ایڈیشن بڑھانے کے ساتھ ورکرز اور ماہی گیروں کی تربیت بھی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر اس شعبے کی ترقی میں کردار ادا کرے۔ میرین فشریز ڈپارٹمنٹ نوجوان ماہی گیروں کو تربیت بھی فراہم کررہا ہے۔
انہوں نے ماہی گیری کے فرسودہ طریقوں کو سمندری حیات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ حکومت ایک پائلٹ منصوبے کے ذریعے سمندر میں چھوٹی مچھلیوں کی تعداد مصنوعی انداز میں بڑھانے پر کام کررہی ہے۔
جنید انوار چوہدری کے مطابق ٹیونا فش کا 25 ہزار ٹن کوٹہ موجود ہے۔ ویلیو ایڈیشن اور ٹن پیکنگ سے اس مچھلی کی قیمت کئی گنا بڑھ رہی ہے، جبکہ بڑے ٹرالرز پر سیلز ٹیکس بھی ختم کردیا گیا ہے۔
اُدھر حکومت رواں ماہ سمندری خوراک کی برآمدات کا نیا ہدف مقرر کرے گی۔ گوادر پورٹ پر جہازوں کی آمد بڑھی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران کراچی کی بندرگاہوں نے اضافی دباؤ بھی برداشت کیا۔
ٹرانس شپمنٹ بڑھانے کے لیے مارکیٹنگ کی مختلف تکنیک استعمال کی جارہی ہیں۔ پورٹس کو مسابقتی بنانے کے لیے چارجز کم کیے گئے ہیں، جبکہ گزشتہ 4 برس میں یورپی مارکیٹ سے کوئی فش کھیپ مسترد نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فشنگ کو جدید بنانے کے لیے پرانی کشتیوں پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔ حکومت غریب ماہی گیروں کو بے روزگار کیے بغیر شعبے میں جدید طریقے متعارف کرانے کی پالیسی پر عمل کرے گی۔