شام میں سابق
| |

شام میں سابق صدر بشار الاسد اور بھائی کو انسانیت کیخلاف جرائم پر سزائے موت

دمشق: شام میں سابق صدر بشار الاسد اور ان کے چھوٹے بھائی کو انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزام میں سزائے موت سنادی گئی۔

خبر  رساں اداروں کے مطابق عدالت نے سابق صدر کی غیر موجودگی میں مقدمے کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے فیصلہ جاری کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دمشق کی فوجداری عدالت نے 14 سالہ تنازع کے دوران ہونے والے جرائم میں بشار الاسد کو ذمہ دار قرار دیا۔ عدالت نے ان کے بھائی کے خلاف بھی الزامات ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی۔

عدالتی فیصلہ اسد خاندان کی تقریباً 5 دہائیوں پر مشتمل حکمرانی کے خاتمے کے 20 ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ یہ خاندان کے خلاف شام میں جاری عدالتی کارروائیوں کے دوران سامنے آنے والی پہلی سزاؤں میں شامل ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے عدالتی اجلاس میں جج فخرالدین العریان نے فیصلہ سنایا۔ جج نے کہا کہ بشار الاسد نے ریاستی اداروں کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا۔

عدالت نے اسی مقدمے میں بشار الاسد کے ماموں عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی۔ انہیں جنوبی صوبے درعا میں کریک ڈاؤن کی نگرانی کا مجرم قرار دیا گیا، جہاں سے بغاوت شروع ہوئی اور بعد میں خانہ جنگی پھیل گئی۔

درعا میں ہونے والی کارروائیوں نے شام کے حالات کو طویل مسلح تنازع کی طرف دھکیل دیا تھا۔ بعد ازاں ملک میں کئی برس تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا۔

عدالتی فیصلے کے بعد اسد خاندان کے خلاف قانونی کارروائی نے ایک نیا مرحلہ اختیار کرلیا ہے، تاہم بشار الاسد عدالت میں موجود نہیں تھے اور فیصلہ ان کی غیر موجودگی میں سنایا گیا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *