|

عالمی میڈیا نے امریکا کی ناکامی تسلیم کرلی: پاسداران انقلاب

 

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری محاذ آرائی میں ایرانی حکمتِ عملی کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشکلات کا سامنا ہے اور غیرملکی ذرائع ابلاغ اور مغربی تجزیہ کار بھی اب واشنگٹن کی حکمتِ عملی کی ناکامی کو تسلیم کرنے لگے ہیں۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ مؤقف 8 اگست کو ایران کے قومی یومِ صحافت کے موقع پر جاری کیے گئے بیان میں سامنے آیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر ہونے والے تجزیوں میں اب امریکا کو درپیش مشکلات اور اس کی حکمتِ عملی کے نتائج پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بعض مغربی تجزیوں میں بھی موجودہ صورتِ حال کو امریکا کے لیے ایک اسٹریٹجک نقصان قرار دیا گیا ہے جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن بتدریج ایسی مشکل صورتحال کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں جنگ کے سیاسی اور معاشی اثرات اس کے لیے مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

ایرانی مؤقف کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز کی اہمیت سمیت مختلف علاقائی عوامل کو استعمال کرتے ہوئے امریکا اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں جنگ کے ممکنہ معاشی اور سیاسی اخراجات میں اضافہ ہوا، جس نے امریکی قیادت کے لیے صورتحال کو مزید دشوار بنا دیا۔

ایرانی حکام خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دنوں میں کسی نئی بڑی فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کی طرف پیش رفت کے اعلان کو اپنی حکمتِ عملی کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن کا جنگی کارروائیوں کے دائرے کو مزید وسعت دینے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ایران کے خلاف دباؤ ڈالنے کی امریکی حکمتِ عملی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں اس صورتحال کو ایران کے خلاف جنگ میں امریکی صدر کی ناکامی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والے تجزیے بھی اب اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ ایرانی مؤقف کے مطابق موجودہ حالات نے امریکا کے لیے عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ سیاسی اور معاشی سطح پر بھی کئی نئے چیلنجز پیدا کردیے ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں جنگ کے ممکنہ علاقائی اثرات پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

تہران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خطے میں موجود دیگر اہم عوامل کسی بھی تنازع کے معاشی اثرات کو وسیع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے باعث امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے طویل جنگ ایک بھاری سیاسی اور معاشی قیمت کا سبب بن سکتی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *