ڈھاکا میں پاکستان و بنگلا دیش کے مابین تعلیمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

ڈھاکا (نمائندہ جسارت) ڈھاکا میں پاکستان اور بنگلا دیش کے مابین تعلیمی تعاون کے فروغ پر اتفاق اور جامعہ ڈھاکا کے شعبہ اردو میں جدید کمپیوٹر لیب کا افتتاح بھی عمل میں آیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بنگلادیش نے دوطرفہ تعلیمی تعاون کو وسعت دینے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور اساتذہ و طلبہ کے تبادلے کے پروگراموں کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس عزم کا اظہار پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور جامعہ ڈھاکا (یونیورسٹی آف ڈھاکا) کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبید الاسلام کے درمیان وائس چانسلر کے دفتر میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران کیا گیا۔ملاقات کے دوران ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر کو ‘پاکستان-بنگلا دیش نالج راہداری’ (Knowledge Corridor) کے تحت پیش کی جانے والی علامہ اقبال رشپس میں بنگلا دیشی طلبہ کی بڑھتی ہوئی شدید دلچسپی سے آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تعلیم، پاکستان اور بنگلا دیش کے برادرانہ عوام کے درمیان باہمی تفہیم، تعاون اور دیرینہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا سب سے پائیدار ذریعہ ہے۔ بعد ازاں ہائی کمشنر اور وائس چانسلر نے مشترکہ طور پر جامعہ ڈھاکا کے شعبہ اردو میں پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم کی گئی جدید کمپیوٹر لیب اور تجدید شدہ (renovated) کلاس رومز کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبید الاسلام نے کہا کہ 1 جولائی 1921ء کو قائم ہونے والا شعبہ اردو جامعہ ڈھاکا کے قدیم ترین اور روایتی شعبہ جات میں سے ایک ہے۔ ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط اپنی تاریخ میں اس شعبے نے زبان، ادب اور ثقافت کی ترویج و تحقیق میں نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں۔ انہوں نے شعبہ اردو کی بہتری اور جدید کاری کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون کو سراہا۔اس موقع پر ہائی کمشنر عمران حیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ پیشرفت دونوں ممالک کے تعلیم کی بہتری، ثقافتی ہم آہنگی اور نوجوان نسل کے روشن مستقبل پر سرمایہ کاری کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے شعبہ اردو کی حفاظت اور نگہداشت پر جامعہ ڈھاکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ یونیورسٹی کی لسانی تنوع، ادبی تحقیق اور ثقافتی تبادلے کے لیے عملی وابستگی کا بہترین ثبوت ہے۔ ہائی کمشنر نے شعبہ اردو کے اساتذہ اور طلبہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اس اعتماد کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تعلیمی و ثقافتی روابط مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *