پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ رد و بدل غیرمنصفانہ اور حقائق کے منافی ہے‘ لیاقت بلوچ

کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر مسلسل اضافے کو عوام پر ڈرون حملہ اور مہنگائی کا نیا سونامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بے حس اور ظالم حکمران نے عوام دشمنی کے تمام رکارڈ توڑدیئے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول کی قیمتوں کا تعین دراصل حکمران ٹولے کی جانب سے عوام کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کے مترادف ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ ایران۔امریکہ جنگ حکمرانوں کی کمائی کا بہترین ذریعہ ثابت ہورہی ہے ۔ایک دن 35پیسے کی کمی دوسرے دن 07روپے کا اضافہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی اور ظلم کی انتہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی دفتر میں ملاقات کرنے والے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔صوبائی امیر نے مزید کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بہانہ بناکر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں من مانا اضافہ جبکہ دکانداروں نے اپنی اشیاء کے من مانے نرخ مقرر کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لْوٹنا شروع کردیا۔پیٹرولیم نرخوں میں اضافہ کے فوری اثرات اشیائے خورد و نوش، سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری سامان کے نرخوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں مارکیٹوں میں مہنگائی کی نئی لہر جنم لیتی ہے۔ حکمرانوں کی اپنی عیاشیاں اور مراعات تو دھڑلے سے جاری ہیں ،بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ حکومتی وزیر اسمبلیوں میں بیٹھ کر فرماتے ہیں کہ ’’ہاں بھئی خریدا ہے جہاز تم کو جو کرنا ہے کرلو‘‘ جبکہ عوام پر آئے دن مہنگائی کے بم برسانے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ۔ٹرولیم نرخوں میں اضافے کی مجبوری کو عام آدمی سے زیادہ ان مراعات یافتہ حکمران اشرافیہ طبقات کی جانب منتقل کیا جائے جن کی تجوریاں بھری ہوئی ہیں اور وہ حکومتی پالیسی کے تحت بھاری تنخواہوں کے علاوہ مختلف الاوئنسز کے ساتھ ساتھ مفت بجلی اور پیٹرول کی سہولتوں سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ ہنگامی حالات میں تو سب سے پہلے سرکاری خزانے سے مفت پیٹرول اور بجلی کی فراہمی کی سہولت ختم کی جانی چاہیئے اور اشرافیہ طبقات کی دوسری مراعات پر بھی کٹ لگانی چاہئے۔ اگر آئی ایم ایف کے کہنے پر پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کی جاسکتی ہے، جس سے عام آدمی ہی متاثر ہوتا ہے تو موجودہ ہنگامی حالات میں حکمران اشرافیہ طبقات کے قومی خزانے پر اللے تللوں کو کیوں ختم نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ حالات میں عام آدمی کیلئے دووقت کی روٹی،بچوں کی تعلیم،گیس،بجلی کے بل اور اشیائے خورونوش کی خریداری بھی مشکل ہوچکی ہے،حکومت عوام کو مزید دیوار سے لگانے کے بجائے اپنی گورننس بہتر بنانے اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف دینے پر توجہ دے تو اس سے نہ صرف مہنگائی کے منفی اثرات میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد بھی بحال کیا جا سکتا ہے۔حکومت فی الفور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی،روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کا فیصلہ واپس لے بصورت دیگر عوامی تحریک نااہل حکمران ٹولے کو اقتدار کے ایوانوں سے بے دخل کرنے تک جاری رہے گی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *