ایندھن بحران: کیوبا میں سولر ٹرائی سائیکلز کا دلچسپ رجحان، کلاسک گاڑیاں غائب
کیوبا میں طویل عرصے سے جاری ایندھن کے بحران نے لوگوں کے سفر اور روزگار کے طریقے بدل کر رکھ دیے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایک زمانے میں اپنی کلاسک گاڑیوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور اس ملک کی سڑکوں پر اب چین میں تیار ہونے والی الیکٹرک ٹرائی سائیکلیں تیزی سے عام ہوتی جا رہی ہیں۔
یہ 3 پہیوں والی گاڑیاں لاکھوں شہریوں کے لیے روزمرہ آمدورفت کا اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہیں اور کئی علاقوں میں عوامی ٹرانسپورٹ کا خلا بھی پر کر رہی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ متعدد شہریوں نے ان الیکٹرک ٹرائی سائیکلوں پر شمسی توانائی کے پینل بھی نصب کر لیے ہیں۔ اس منفرد اقدام سے انہیں گاڑیاں چارج کرنے کے لیے قومی بجلی کے نظام پر انحصار نہیں کرنا پڑتا، جو پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
سورج کی روشنی سے چلنے والی یہ گاڑیاں نہ صرف اخراجات کم کر رہی ہیں بلکہ توانائی کے بحران میں ایک عملی حل بھی ثابت ہو رہی ہیں۔
ان ٹرائی سائیکلوں کی قیمت تقریباً 2 ہزار سے 4 ہزار امریکی ڈالر کے درمیان ہے، اس لیے ہر شہری کے لیے انہیں خریدنا آسان نہیں۔ اس کے باوجود کئی افراد نے اپنی پرانی پیٹرول سے چلنے والی گاڑیاں فروخت کرکے یہ الیکٹرک سواریاں خریدیں، جبکہ کچھ لوگوں کو بیرون ملک مقیم رشتہ داروں نے مالی مدد فراہم کی۔
اسی طرح کئی چھوٹے کاروباری افراد نے بھی بہتر آمدنی کی امید میں ان گاڑیوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ گاڑیاں صرف مسافروں کی نقل و حمل تک محدود نہیں رہیں بلکہ سامان کی ترسیل اور ان بس روٹس پر بھی چل رہی ہیں جہاں پہلے سرکاری بسیں خدمات انجام دیتی تھیں۔ یوں یہ ٹرائی سائیکلیں شہری زندگی کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب رواں سال جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔
کیوبا اپنی ضرورت کا صرف تقریباً 40 فیصد ایندھن خود پیدا کرتا ہے، جبکہ اس اعلان کے بعد مارچ کے آخر تک ملک میں صرف ایک آئل ٹینکر پہنچا ہے، حالانکہ اس سے پہلے ہر ماہ اوسطاً 8 ٹینکر آتے تھے۔
اس صورتحال نے ایندھن کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا اور متبادل توانائی کے ذرائع کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔