|

اسلحہ ،بھوک اور شاہی انائوں میں پھنسا یمن

(گزشتہ سے یوستہ)
یمن کی جنگ کو اگر صرف “شیعہ اور سنی” کا مناقشہ قرار دیا جائے تو یہ حقیقت کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ فرقہ واریت اس بحران کا ایک پہلو ضرور ہے، مگر اصل کھیل جغرافیہ، طاقت، تجارت اور علاقائی بالادستی کا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں نظریات اکثر مفادات کا لباس اوڑھ لیتے ہیں۔نقشے پر نظر ڈالیں تو یمن کی اہمیت فوراً واضح ہو جاتی ہے۔ اس کے ساحل کے سامنے” باب المندب “کی تنگ آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کا ایک بڑا ٹریفک گزرتا ہے۔ خلیج سے نکلنے والا تیل بھی اسی راستے سے بحیرۂ احمر اور پھر نہرِ سویز کی طرف جاتا ہے۔ جس قوت کا اس گزرگاہ پر اثر ہو، وہ صرف ایک ملک نہیں بلکہ عالمی تجارت کی نبض پر انگلی رکھ دیتی ہے۔اسی لیے یمن کی جنگ صرف صنعاء یا عدن کی جنگ نہیں، بلکہ بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن اور عالمی تجارتی گزر گاہوں کی جنگ بھی ہے۔ایران کے لیے حوثی ایک ایسے اتحادی ہیں جو اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو وسعت دیتے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب اپنے جنوبی محاذ پر کسی ایسی طاقت کو قبول نہیں کر سکتا جو اس کے مخالف علاقائی محور سے قریب سمجھی جائے۔ یوں یمن، تہران اور ریاض کے درمیان ایک پراکسی جنگ کا میدان بن گیا۔اس پوری صورتِ حال میں عالمی طاقتوں کا کردار بھی سوالات سے خالی نہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور بعض مغربی ممالک ایک طرف جنگ بندی اور انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف خطے کے اپنے تزویراتی مفادات، اسلحے کی تجارت اور بحری راستوں کے تحفظ کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔ اسی طرح روس اور چین بھی اس خطے کو اپنی وسیع تر عالمی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ یوں یمن کبھی بھی صرف یمن نہیں رہتا؛ وہ بڑی طاقتوں کے مفادات کی کی بساط پر شطرنج کا ایک اہم مہرہ بنا رہتا ہے۔سب سے زیادہ اذیت ناک پہلو یہ ہے کہ اس کھیل میں سب سے کمزور فریق، یعنی یمن کا عام شہری، سب سے بڑی قیمت ادا کرتا ہے۔وہ ماں جس نے اپنے بچے کو بھوک سے مرتے دیکھا، اس کے لیے یہ بحث بے معنی ہے کہ میزائل کس ملک نے بنایا تھا۔ وہ کسان جس کا کھیت خاکستر ہو گیا، اسے اس سے غرض نہیں کہ حملہ کس نظریے کے نام پر ہوا۔ جنگ ہمیشہ نظریات کے نام پر شروع ہوتی ہے، مگر ختم انسانوں کے لا شوں پر ہوتی ہے۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ حوثیوں کے حملوں نے بین الاقوامی جہاز رانی کو متاثر کیا، جبکہ فضائی بمباری اور زمینی لڑائی نے یمن کے شہروں، اسپتالوں، اسکولوں اور بنیادی انفرا سٹکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس لیے اخلاقی ذمہ داری کسی ایک فریق پر ڈال دینا نہ علمی دیانت ہے اور نہ سیاسی بصیرت۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اس جنگ کا کوئی پائیدار حل ممکن ہے؟ہاں، لیکن صرف اس صورت میں جب تمام فریق یہ تسلیم کریں کہ کوئی بھی عسکری فتح مستقل نہیں ہوگی۔ یمن کو نہ بمبار طیارے بچا سکتے ہیں اور نہ میزائل۔ اسے صرف ایک جامع سیاسی معاہدہ، قبائلی و علاقائی مفاہمت، وسائل کی منصفانہ تقسیم، مضبوط قومی ادارے اور بیرونی مداخلت میں کمی ہی استحکام دے سکتی ہے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں اگر پائیدار بہتری آتی ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یمن کو پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ایسا سیاسی عمل ضروری ہے جس میں حوثی، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت، جنوبی یمن کی نمائندہ قوتیں اور دیگر قومی دھڑے سب شریک ہوں۔ کسی ایک فریق کو مکمل طور پر دیوار سے لگانا نئی جنگوں کو ہوا دے سکتا ہے۔تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں میدانوں میں جیتی جا سکتی ہیں، مگر امن صرف مذاکرات کی میز کا مرہون منت ہو سکتا ہے۔یمن کا المیہ صرف عرب دنیا کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ خصوصا،ان ممالک کے ضمیر کا جو پیامبر تو امن کے کہلاتے ہیں مگر اپنے بنائے اسلحے کی تجارت کے لئے چھوٹے ملکوں کو آپس میں لڑانے کی پالیسی کے پیچھے انہیں کا ہاتھ ہوتا ہے ،خفیہ ہو برہنہ ۔ یہ وہ دردناک امر ہے جو جنگوں کو تھمنے نہیں دیتا ۔ اس خطہ ء زمین کو آشتی اور امن کا گہوارہ بنانا ہے تو جغرافیائی مفادات کی عینک اتارنا ہوگی۔ اگر اس امر پر سنجیدگی سے عمل نہ کیا گیا تو اسلحہ ختم ہونے کے بعد بھی نفرت کی فصلیں اگتی رہیں گی۔آپس کی محبتیں پامال ہوتی رہیں گی۔ ہمارے اجتماعی شعور کے دروازے پر ہونے ولی دستکیں نہ سنی گئیں تو یہ سوال کبھی ختم نہیں ہوگا کہکیا ہم نے ریاستوں کو انسان کے لیے بنایا تھا، یا انسان کو ریاستوں کی دائمی جنگوں کا ایندھن بنا ئے رکھنے کے لئے؟یمن کی ویران گلیاں، ملبے تلے دبی مساجد ، ویران اسکول، زخمیوں سے بھرے ہسپتال اور بھوک سے بلکتے بچے آج بھی اسی سوال کا جواب مانگ رہے ہیں۔ اور شاید تاریخ بھی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *