پاکستانی خاتون باکسر کامن ویلتھ گیمز میں تاریخی کامیابی
اسلام آباد: پاکستانی خاتون باکسر کامن ویلتھ گیمز میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ملک کے کھیلوں کی تاریخ میں ایک اور سنہرا باب رقم کر دیا۔ قومی باکسر فاطمہ زہرہ خواتین کے 60 کلوگرام مقابلوں کے سیمی فائنل میں جگہ بنا کر نہ صرف پاکستان کے لیے تمغہ یقینی بنانے میں کامیاب ہوئیں بلکہ کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بھی بن گئیں۔
تفصیلات کے مطابق فاطمہ زہرہ نے کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی باکسر جورڈن ولسن کو یکطرفہ مقابلے میں 5-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔ اس کامیابی کے بعد پاکستان کے لیے کم از کم کانسی کا تمغہ یقینی ہو گیا ہے، کیونکہ باکسنگ مقابلوں میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والے تمام کھلاڑی تمغے کے حقدار ہوتے ہیں۔
یہ کامیابی پاکستان میں خواتین کی باکسنگ کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دی جا رہی ہے۔ پہلی مرتبہ کسی پاکستانی خاتون نے کامن ویلتھ گیمز کے باکسنگ ایونٹ میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی ہے، جس پر کھیلوں سے وابستہ شخصیات اور شائقین نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
فاطمہ زہرہ اب 31 جولائی کو سیمی فائنل میں کینیڈا کی باکسر آل احمدیہ کے مدمقابل ہوں گی۔ اگر وہ یہ مقابلہ جیتنے میں کامیاب رہیں تو پاکستان کے لیے سونے یا چاندی کے تمغے کی امید مزید روشن ہو جائے گی۔
کوارٹر فائنل میں کامیابی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے فاطمہ زہرہ نے کہا کہ وہ بھی ایک عام پاکستانی لڑکی تھیں، لیکن مسلسل محنت، لگن اور ٹریننگ نے انہیں اس مقام تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ پاکستان کی دیگر لڑکیاں بھی اپنے خواب پورے کرنے کے لیے میدان میں آئیں اور کھیلوں میں بھرپور حصہ لیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ان کی کامیابی دوسری لڑکیوں کے لیے حوصلے اور امید کی علامت بنے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سیمی فائنل میں بھی اپنی بہترین کارکردگی پیش کر کے پاکستان کا پرچم مزید بلند کرنے کی کوشش کریں گی۔
پاکستانی کھیلوں کے حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی خاتون باکسر کامن ویلتھ گیمز میں یہ کامیابی خواتین کے کھیلوں کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کے لیے ایک مثبت پیغام ہے، جو مستقبل میں مزید بین الاقوامی کامیابیوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔