حیدرآبادکے نوجوان اساتذہ کا معاشی قتل بند کیا جائے، گسٹا

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)گسٹا حیدرآباد کے سابق صدر مبارک عباسی نے کہا ہے کہ حیدرآباد کے اساتذہ و نوجوانوں کے مفادات کا تحفظ ہر صورت میں کیا جائے گا، محکمہ تعلیم حیدرآباد انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسفر کا سلسلہ ایک گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے جو کہ حیدرآباد کے اساتذہ بلخصوص بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔محکمہ تعلیم سندھ نے ای ٹرانسفر پورٹل کے ذریعے حیدرآباد میں بڑی تعداد میں ٹرانسفر کردئیے صرف ایک اسکول گورنمنٹ بوائز ہدایت اللہ ہائر سیکنڈری اسکول پختہ قلعہ میں 23 اساتذہ کی ٹرانسفر کے ذریعے پوسٹنگ کی گئی ہے جس میں جے ای ایس ٹی اور پی ایس ٹی شامل ہیں جن میں 14 خواتین ہیں۔ یاد رہے کہ ٹرانسفر کئے جانے والے ٹیچرز گزشتہ تین سالوں میں آء بی اے ٹیسٹ پاس کرکہ ضلعی سطح پر بھرتی ہوئے تھے مگر اب مختلف جواز کے تحت حیدرآباد ضلع میں ٹرانسفر ہو کر آگئے ہیں ذرائع کے مطابق ان اساتذہ نے چالیس فیصد پاسنگ نمبر حاصل کئے تھے اور اپنے ضلع میں نوکری کے حق دار بن گئے۔۔ مگر حیدرآباد ضلع کے نوجوانوں جن میں خواتین کی بڑی تعداد شاملِ ہے پچاس فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے کے باوجود نوکری سے محروم رہے ہیں یہ جواز بنایا گیا کہ سٹیں نہیں ہیں، صرف قاسم آباد تعلقہ میں 54 نمبر حاصل کرنے والے بھی محروم رہے۔ اگر یہ جگہیں کسی وجہ سے خالی ہوئی ہیں تو انپر پہلا حق مقامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کا ہے،۔ گورنمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ بہت جلد محکمہ تعلیم میں نء بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اسطرح ٹرانسفر کے ذریعے پہلے ہی جگہیں بھر دی جائیں گی توپھر حیدرآباد میں کیا بچے گا حیدرآباد کے تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوان کہاں جائیں گے۔ حکومت سندھ اس ناانصافی کا فوری نوٹس لے اور اس کا ازالہ کرتے ہوئے حیدرآباد ضلع میں نء آسامیاں پیدا کرے۔ حیدرآباد کے تمام سطح کے ممبران پارلیمنٹ ،سیاسی ،مذہبی جماعتیں ،سماجی تنظیمیں بلخصوص محکمہ تعلیم کی اسٹیک ہولڈرز تنظیموں کے زمداران اپنا کردار ادا کریں۔ اس انصافی پر مصلحت کے تحت خاموشی شریکِ جرم تصور کی جائے گی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *