|

معاہدہ مکہ کسی ملک کے خلاف نہیں، خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ مکہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے، جس کا بنیادی مقصد علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کی کوششوں کو مزید تقویت دینا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے معاہدہ مکہ کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے کے کسی ملک کو ہدف بنانے کے لیے نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مقصد 3وں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ معاہدہ مکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو اپنے اختلافات کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کے خواہاں ہیں، پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ پرامن بقائے باہمی، تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی استحکام کی حمایت کرتی رہی ہے اور یہ معاہدہ بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستونوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت اور عوام کے درمیان موجود گہرے برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے، یہ معاہدہ اچانک نہیں ہوا بلکہ کئی سال پر محیط بات چیت، مشاورت اور باہمی ہم آہنگی کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد موجودہ اور مستقبل کے امن و سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 3وں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا، علاقائی استحکام کو فروغ دینا اور خطے میں خوشحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ مکہ کے نتیجے میں پاکستان کے کسی بھی موجودہ دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کو منسوخ یا تبدیل نہیں کیا گیا،نیا دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود بین الاقوامی اور علاقائی معاہدوں کے ساتھ اپنے دائرہ کار میں تعاون کو آگے بڑھاتا ہے اور پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لاتا۔

نائب وزیراعظم نے معاہدے کی دفاعی شق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملے کو 3وں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس طرح کسی ایک ملک کی سلامتی کو لاحق بڑے بیرونی خطرے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ باہمی دفاع اور تعاون کے لیے مشترکہ طور پر اقدامات کرسکیں گے۔

اسحاق ڈار کے مطابق معاہدے کی یہ شق اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ریاستوں کے انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق کے مطابق ہے، معاہدے کی تمام شقیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ دیرپا امن اور استحکام کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔ پاکستان کسی بھی علاقائی تنازعے کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کے بجائے مذاکرات، سفارتکاری اور پرامن ذرائع کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کے پرامن حل اور خطے کے عوام کے لیے زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرتا ہے،علاقائی ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ مفادات کے فروغ سے ہی خطے میں پائیدار امن قائم کیا جاسکتا ہے۔

اسحاق ڈار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون خطے میں کسی نئے محاذ یا بلاک کی تشکیل کے بجائے مشترکہ سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے اور امن و استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ اور برادر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور باہمی احترام کی بنیاد پر روابط برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، معاہدہ مکہ بھی اسی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جاسکے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *