تاریخ واقعات کا
|

تاریخ واقعات کا قبرستان نہیں، انسانی شعور کی تجربہ گاہ ہے

کسی دانشور نے کہا تھا کہ ’’تاریخ واقعات کا قبرستان نہیں، انسانی شعور کی تجربہ گاہ ہے‘‘ کسی قدیم شہر کے کھنڈرات میں کھڑے ہو کر کبھی آپ نے یہ محسوس کیا ہے کہ پتھر بھی بولتے ہیں؟ ٹوٹی ہوئی محرابیں، شکستہ فصیلیں، مٹی میں دبی اینٹیں اور ویران گلیاں، سب کے سب کسی ایسے نوحے کی بازگشت سناتے ہیں جو کانوں سے نہیں، شعور سے سنا جاتا ہے۔ آثارِ قدیمہ کے ماہر کے لئے یہ چند پتھر ہوں گے، سیاح کے لئے ماضی کے مزار ، مگر ایک صاحبِ فکر کے لئے یہ انسانی غرور، انسانی عظمت اور انسانی حماقت کی وہ داستان جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔تاریخ شاید اسی لئے کتابوں میں محو استراحت ہی نہیں رہتی،بلکہ زمین پر چلتی ہے۔ کبھی بابل کے کھنڈرات میں، کبھی غرناطہ کی سرخ اینٹوں پر ، کبھی ٹیکسلا کے خاموش پتھروں میں اور کبھی موہنجو داڑو کی سنسان گلیوں میں۔ سوال یہ نہیں کہ یہاں کون رہتا تھا؛ سوال یہ ہے کہ یہاں رہنے والے کہاں چلے گئے؟ہم نے تاریخ کو ہمیشہ واقعات کا نقار خانہ سمجھا۔ فلاں بادشاہ کب پیدا ہوا، کس نے کس کو شکست دی، کون سا قلعہ کب فتح ہوا، کس سلطنت کا سورج کب غروب ہوا۔ امتحان میں نمبر لینے کے لئے یہ معلومات شاید کافی ہوں، مگر قومیں اس طرح زندہ نہیں رہتیں۔ قومیں اس وقت زندہ رہتی ہیں جب وہ تاریخ کے واقعات نہیں، تاریخ کے اسباب پڑھنا شروع کر دیتی ہیں۔ول ڈیورنٹ نے نصف صدی پر محیط علمی ریاضت کے بعد ایک جملے میں پوری تاریخ کا حاصل بیان کرنے کی کوشش کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’تاریخ انسان کے بدلتے لباس کی کہانی نہیں، اس کی مستقل فطرت کا مطالعہ ہے۔‘‘یہی بات ابن خلدون نے اپنے انداز میں کہی تھی کہ ’’سلطنتیں تلوار سے کم اور اپنے اندر پیدا ہونے والی کمزوریوں سے زیادہ مرتی ہیں۔‘‘
قرآن حکیم نے اس حقیقت کو اور جامع اور فصیح انداز میں بیان کیا کہ ’’پس زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ انجام کیا ہوا ان لوگوں کا جو تم سے پہلے تھے۔‘‘ گویا تاریخ خبر نہیں، عبرت ہے، داستان نہیں، دستور ہے۔افسوس یہ ہے کہ ہم نے تاریخ سے عقیدت تو سیکھی، بصیرت نہیں سیکھی۔ہم ماضی کے نام پر جشن تو بہت مناتے ہیں، مگر ماضی کے سامنے احتساب کے لئے کھڑے ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ ہم اپنے ہیروز کے مجسمے تو تراشتے ہیں، مگر ان کی غلطیوں سے سبق نہیں لیتے۔ ہم شکستوں پر ماتم کرتے ہیں، مگر ان اسباب کو نہیں چھیڑتے جنہوں نے شکست کو جنم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ ہمارے لئے عبرت نہیں بن سکی، صرف جذبات کا ایندھن بن کر رہ گئی۔کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم تاریخ نہیں پڑھتے، تاریخ ہمیں پڑھ رہی ہوتی ہے۔ وہ دیکھ رہی ہوتی ہے کہ کیا انسان نے ہزاروں برس کی غلطیوں سے کچھ سیکھا یا نہیں۔فرعون بدل گیا، فرعونیت نہیں بدلی۔نمرود مٹ گیا، تکبر نہیں مٹا۔قارون دفن ہو گیا، دولت کی ہوس آج بھی زندہ ہے۔سکندر مر گیا، فتوحات کی اندھی خواہش زندہ رہی۔چہرے بدلتے ہیں، کردار وہی رہتے ہیں۔ شاید اسی لئے تاریخ اپنے آپ کو نہیں دہراتی، انسان اپنے آپ کو دہراتا ہے۔آج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، ڈیجیٹل انقلاب اور سائنسی معجزات کے باوجود اگر انسان جنگ، نفرت، تعصب اور طاقت کے جنون سے دامن نہیں چھڑا،سکا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ علم کم ہے، بلکہ اس لئے کہ شعور ابھی تک علم کے کندھوں سے کندھا نہیں ملا پایا علم معلومات دیتا ہے، شعور سمت دیتا ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں میں تاریخ پڑھائی جاتی ہے، مگر تاریخ سمجھائی نہیں جاتی۔ بچوں کو بتایا جاتا ہے کہ کون سی جنگ کب ہوئی، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ جنگیں صرف میدانوں میں ہی نہیں ، ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ انہیں تاریخ کے سن یاد کرا دیئے جاتے ہیں، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ تہذیبیں اس دن مرتی ہیں جب ان کے اندر انصاف مر جاتا ہے۔
روم کی سلطنت کو باہر سے آنے والے حملہ آوروں نے کم، اندر سے پیدا ہونے والی اخلاقی ناہمواریوں نے زیادہ نقصان پہنچایا۔ اندلس صرف دشمن کے ہاتھوں تہہ و بالا نہیں ہوا، داخلی انتشار نے اس کے عروج کو زوال میں بدلا، مغل سلطنت صرف توپوں سے شکست و ریخت تک نہیں پہنچی، بلکہ درباروں کی اندرونی سازشوں نے اس کے انہدام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاریخ بار بار یہی کہتی ہے کہ جب قوموں کی اپنی داخلی بنیادیں کھوکھلی ہوجاتی ہیں تو بیرونی دشمن کو گرتی ہوئی دیواروں کو صرف آخری دھکا دینا پڑتا ہے۔آج ہم بھی ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہر شخص دوسروں کی غلطیاں گنوا رہا ہے، مگر اپنی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔ سیاست دان ریاست کو الزام دیتے ہیں، ریاست سیاست دانوں کو، دانشور حکمرانوں کو، حکمران عوام کو، اور عوام قسمت کو۔ یوں ذمہ داری کا دائرہ مکمل ہو جاتا ہے، مگر اصلاح کا سفر شروع نہیں ہوتا۔یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ آئینہ بن جاتی ہے ۔آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا، اگرچہ دیکھنے والا اکثر سچ دیکھنے سے کتراتا ہے۔ول ڈیورنٹ نے لکھا تھا کہ ’’تہذیبیں اس وقت تک قائم رہتی ہیں جب تک ان کے اندر اخلاقی سرمایہ باقی رہتا ہے۔ جب دولت کردار سے بڑی، طاقت انصاف سے بڑی، اور مفاد اصول سے بڑا ہو جائے تو زوال دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا، گھر کے اندر داخل ہو چکا ہوتا ہے۔‘‘اقبال ؒنے شاید اسی لمحے کو دیکھ کر کہا تھا:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
قوموں کی امامت کردار سے ملتی ہے۔آج ہمیں نئی شاہراہوں سے زیادہ نئے شعور کی ضرورت ہے۔ بلند عمارتوں سے زیادہ بلند اخلاق کی ضرورت ہے۔ اقتصادی منصوبوں سے زیادہ فکری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ قومیں صرف ترقی نہیں کرتیں، وہ ارتقا بھی کرتی ہیں، اور ارتقا کا تعلق ذہن سے ہوتا ہے، جیب سے نہیں۔تاریخ کے صفحات پلٹتے ہوئے ایک عجیب احساس جنم لیتا ہے۔ انسان ہر دور میں یہ سمجھتا رہا کہ اس کی طاقت ہمیشہ باقی رہے گی، مگر وقت نے ہر تاج کو خاک اور ہر تخت کو تاراج کر دیا۔ صرف وہ قومیں زندہ رہیں جنہوں نے طاقت کے بجائے اصولوں کو اپنی بنیاد بنایا۔اس لئے تاریخ کو مردہ واقعات کا قبرستان سمجھنا، تاریخ کی توہین ہے۔ تاریخ تو زندہ انسانوں کی عدالت ہے، جہاں ہر نسل اپنا مقدمہ خود پیش کرتی ہے اور فیصلہ آنے والی نسلیں کرتی ہیں۔ہم بھی کل کسی تاریخ کی کتاب کا ایک باب ہوں گے۔سوال یہ نہیں کہ ہمارے نام کے ساتھ کون سا عہد لکھا جائے گا، سوال یہ ہے کہ ہمارے بارے میں کیا لکھا جائے گا؟کیا یہ کہ ایک ایسی قوم تھی جس نے ماضی پر فخر تو بہت کیا مگر ماضی سے سیکھا کچھ نہیں۔یا یہ کہ ایک قوم نے اپنی غلطیوں کو پہچانا، تاریخ کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا، اور پھر اپنی تقدیر بدلنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا نہ کر سکی؟تاریخ آج بھی ہمارے سامنے خاموش کھڑی ہے۔ اس کے ہاتھ میں نہ تلوار ہے، نہ ترازو، نہ فرمان ، اس کے ہاتھ میں صرف ایک آئینہ ہے۔جو قومیں اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے کا حوصلہ رکھتی ہیں، وہ زندہ رہتی ہیں۔اور جو آئینہ توڑ دیتی ہیں… وہ خود بھی زیادہ دیر سلامت نہیں رہتیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *