امریکا کا ایران مخالف ناکابندی میں 59 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ
واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف نافذ سخت تجارتی ناکابندی پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے امریکی افواج نے علاقائی پانیوں میں گشت بڑھاتے ہوئے اب تک 59 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کروایا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکام نے اس حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 12 اگست تک جاری رہنے والی ان کارروائیوں کا مقصد ایران پر عالمی دباؤ کو برقرار رکھنا ہے اور اس دوران ناکا بندی کی خلاف ورزی کرنے والے 3 جہازوں کو ناکارہ بھی بنایا جا چکا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق اس کے علاوہ دو دیگر بحری جہازوں پر امریکی فورسز نے سوار ہو کر اپنی کارروائی مکمل کی ہے۔ یہ اقدامات خطے میں امریکی بالادستی برقرار رکھنے اور مبینہ طور پر پابندیوں سے بچنے والے جہازوں کو روکنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں زور دیا کہ سمندری حدود میں نگرانی کا عمل انتہائی مستعدی سے جاری ہے۔ امریکی لڑاکا طیارے بھی خطے میں مسلسل گشت کر رہے ہیں تاکہ ناکابندی پر عملدرآمد کے دوران کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو فوراً ختم کیا جا سکے۔
An F/A-18 fighter jet launches from the flight deck of USS George H.W. Bush (CVN 77) while the ship sails in regional waters and supports enforcement of America’s 🇺🇸 steel wall blockade against Iran. As of Aug. 12, U.S. forces have redirected 59 commercial vessels, disabled 3 and… pic.twitter.com/dH4BBshoTE
— U.S. Central Command (@CENTCOM) August 12, 2026
اس مشن کی معاونت کے لیے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کو بھی علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔ سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایف اے 18 طیارے ناکابندی کے نفاذ اور نگرانی کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ اہداف کا حصول ممکن ہو۔
عالمی امور کے ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت خطے کی سمندری سیاست میں کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کے تحت بین الاقوامی سمندری راستوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھے گا تاکہ ایران پر عائد تجارتی پابندیوں کا اثر برقرار رہ سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسی کارروائیوں کے مزید وسیع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں جہاز رانی کی آزادی کے نام پر اپنی حکمت عملی کو مزید جارحانہ انداز میں جاری رکھنے کا مکمل عزم رکھتے ہیں۔