| |

7 اگست ملک گیر احتجاج: حافظ نعیم نے قوم کے نام خصوصی ویڈیو پیغام جاری کردیا

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے 7 اگست کے ملک گیر احتجاج کے حوالے سے خصوصی ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے پٹرولیم لیوی، مہنگائی، بجلی، گیس اور دیگر ٹیکسوں کے خلاف 7 اگست بروز جمعہ شام 4 بجے ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلیں، اپنی گاڑیاں روک دیں اور پرامن سیاسی مزاحمت کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وہ پورے پاکستان کے عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ 7 اگست کو شام 4 بجے گھروں سے باہر نکلیں اور اس جدوجہد کا آغاز کریں جو عوام کو موجودہ حکمران طبقے سے نجات دلانے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، پیٹرولیم لیوی، بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے کے ساتھ ساتھ اشیائے خور و نوش پر بھی ٹیکس عائد کر دیے ہیں، جبکہ ایسے افراد سے بھی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جن کی آمدنی قابل ٹیکس نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پیٹرول زیادہ تر موٹر سائیکل سوار، ذاتی گاڑیاں استعمال کرنے والے اور روزگار کے لیے سفر کرنے والے افراد استعمال کرتے ہیں، جبکہ ڈیزل اور پیٹرول پبلک ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے شعبے کی بنیادی ضرورت ہیں۔ جب پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو اس کے اثرات ہر چیز کی قیمت پر پڑتے ہیں اور مہنگائی پورے معاشرے میں پھیل جاتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 27 روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہوئی ہیں ۔ حکومت مسلسل ایسے فیصلے کر رہی ہے جن سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام خاموش رہے اور گھروں میں بیٹھے رہے تو مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے۔ منظم عوامی جدوجہد ہی حکمرانوں کو فیصلے واپس لینے پر مجبور کر سکتی ہے۔

انہوں نے 2 سال قبل بجلی کے نرخوں کے خلاف ہونے والی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی احتجاج کے نتیجے میں حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں کمی کرنا پڑی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت بھی لوگ بھرپور انداز میں میدان میں آئیں گے تو موجودہ فیصلوں پر بھی نظرثانی کرائی جا سکتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں ایک ایسا حکمران کنسورشیم قائم ہے جس میں جاگیردار، وڈیرے، سول اور ملٹری بیوروکریسی کے بااثر افسران اور ایسے سیاستدان شامل ہیں جن کا عوام سے کوئی تعلق نہیں۔  ان کے بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، ان کا طرز زندگی عام شہریوں سے یکسر مختلف ہے اور یہی صورت حال ایلیٹ کیپچر کی مثال ہے، جہاں چند طاقتور طبقات قومی وسائل سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ اس کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران طبقہ سرکاری وسائل پر شاہانہ اخراجات کر رہا ہے۔ ایک وزیراعلیٰ کے لیے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا جاتا ہے، چیئرمین سینیٹ کے لیے 9 کروڑ روپے کی گاڑی لی جاتی ہے، جبکہ ایف بی آر کے افسران کو بھی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں، مفت پیٹرول اور دیگر مراعات فراہم کی جاتی ہیں، جن کا بوجھ بالآخر عوام برداشت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ سب سے زیادہ موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں اور وہ بھی ہر لیٹر پیٹرول پر حکومت کو بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہر لیٹر پیٹرول پر عوام تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں جس میں پیٹرولیم لیوی بھی شامل ہے۔ یہ لیوی دراصل ایک ایسا بوجھ ہے جو غریب، مزدور، کسان، مڈل کلاس، موٹر سائیکل سوار، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے، فوڈ ڈیلیوری اور ان ڈرائیو سے وابستہ افراد سمیت ان لوگوں سے بھی وصول کیا جا رہا ہے جن کی آمدنی قابل ٹیکس نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1900 ارب روپے وصول کیے، جو غریبوں، مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور متوسط طبقے سے حاصل کیے گئے۔ اب تک مجموعی طور پر پاکستانی عوام سے تقریباً ساڑھے  8 ہزار ارب روپے کی لیوی وصول کی جا چکی ہے، جو ان کے بقول عوام کے استحصال کی واضح مثال ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی عائد کرتے وقت دعویٰ کیا تھا کہ اس رقم سے ملک میں آئل ریفائنریوں کی استعداد بڑھائی جائے گی، پٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ کیا جائے گا اور درآمدی بل کم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس مد میں ایک ہزار ارب روپے بھی خرچ کیے جاتے تو پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر آنے والا 4 سے  5 ارب ڈالر کا سالانہ بوجھ کم کیا جا سکتا تھا، تاہم حکومت نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی نااہلی اور ایف بی آر کی ناقص کارکردگی چھپانے کے لیے عوام پر مسلسل ٹیکس لگا رہی ہے۔ ایف بی آر میں سالانہ تقریباً 1300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے، مگر اس کا ازالہ کرنے کے بجائے حکومت غریب عوام سے مزید محصولات وصول کر رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ جماعت اسلامی نے نوجوانوں، طلبہ، مزدوروں، کسانوں اور متوسط طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک بھر میں 510 مقامات پر احتجاج کا انتظام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے چترال، بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان تک عوام احتجاج میں شریک ہوں گے تاکہ حکومت کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ مزید معاشی بوجھ قبول نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہونا چاہیے۔ کسی قسم کی پتھراؤ، فائرنگ یا توڑ پھوڑ نہیں ہونی چاہیے، تاہم عوام کو اپنے حق سے دستبردار بھی نہیں ہونا چاہیے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی ہڑتال کی کال نہیں دے رہی بلکہ 7 اگست کو شام 4 بجے نکل کر سڑکوں کو بند کیا جائے گا، کیونکہ حکومت نے عوام کی زندگی کا پہیہ جام کر دیا ہے۔

بیان کے اختتام پر حافظ نعیم الرحمن نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی کہ وہ 7 اگست کو شام 4 بجے ملک بھر میں سڑکوں پر نکلیں اور پیٹرولیم لیوی، مہنگائی اور معاشی دہشت گردی کے خلاف پرامن احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *