میر رضا ہلاکت
|

میر رضا ہلاکت کیس: میڈیکو لیگل نظام کی کوتاہیوں کا انکشاف

کراچی کے ہائی پروفائل میر رضا ہلاکت کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سندھ فارنزک ڈی این اے اینڈ سیرولوجی ڈپارٹمنٹ نے مقتول کی شناخت کا عمل مکمل کرلیا ہے۔

 فارنزک رپورٹ کے مطابق گلستانِ جوہر میں گیسٹ ہاؤس کے باہر سے ملنے والی لاش کے ڈی این اے نمونے میر رضا کے والدین کے ریفرنس سیمپلز سے مکمل طور پر میچ کرگئے، جس کے بعد سائنسی طور پر لاش کی شناخت میر رضا کے طور پر ہوگئی ہے۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کیس کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مرحلے پر میر رضا کیس کے اصل حقائق کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کرنا چاہیں گے، میڈیکو لیگل آفس کی جانب سے کیس میں واضح کوتاہیاں سامنے آئی ہیں،غفلت میں ملوث کسی بھی شخص کو ہرگز نہیں چھوڑا جائے گا۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس، میڈیکو لیگل اور جوڈیشل نظام سے وابستہ تمام افراد ایک ہی نظام کا حصہ ہیں اور ہر ادارے کو اپنی ذمہ داریاں سختی سے ادا کرنا ہوں گی، پولیس نے اب تک 27 ہزار سے زائد اہلکاروں کو سزائیں دی ہیں، کیونکہ اگر ادارے اپنا کام درست انداز میں انجام نہیں دیں گے تو اس کا نقصان پورے نظام کو ہوگا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی آرٹس کونسل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر رضا کیس کی منصفانہ تفتیش کی یقین دہانی کرائی،مقتول کے اہل خانہ کو تحقیقات کے ہر مرحلے سے آگاہ رکھا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ جوڈیشل کمیشن کیس کی براہِ راست تفتیش کے لیے نہیں بنایا جا رہا تھا بلکہ اس کا مقصد پولیس اور میڈیکو لیگل نظام میں سامنے آنے والی کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا تھا، مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کی خواہش کا حکومت نے احترام کیا۔

مراد علی شاہ کے مطابق کیس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد پولیس اور میڈیکو لیگل نظام سے متعلق جو بھی کوتاہیاں سامنے آئیں گی، ان کے خلاف سخت کارروائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہوگی۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سابقہ تفتیشی ٹیم کی غفلت کے باعث جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ، موبائل ڈیٹا ریکارڈ کا حصول اور مقتول کی اسمارٹ واچ کا فرانزک نہیں کرایا گیا تھا۔

میر رضا کی شرٹ کے کیمیائی تجزیے میں اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شرٹ پر تیزاب کے شواہد ملے جبکہ خون کے نمونوں میں بے ہوشی کی دوا کے اجزا پائے گئے، میر رضا کو گولی بھی کمر کی جانب سے ماری گئی تھی۔

ڈی این اے سے شناخت کی تصدیق کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے جبکہ حکام کی جانب سے کیس میں سامنے آنے والی تفتیشی اور میڈیکو لیگل کوتاہیوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *