یوٹیوب سے کمائی کیلئے نئی شرائط سامنے آگئیں
دنیا بھر میں ویڈیوز کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے والے تخلیق کاروں کے لیے یوٹیوب نے مونیٹائزیشن کے قواعد مزید سخت کردیئے ہیں۔ پلیٹ فارم سے اشتہارات اور دیگر ذرائع سے کمائی شروع کرنے کے خواہش مند افراد کو اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہداف پورے کرنا ہوں گے۔
یوٹیوب دنیا کے بڑے ویڈیو پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے جہاں لاکھوں تخلیق کار اپنی ویڈیوز کے ذریعے ناظرین تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ آمدنی بھی حاصل کرتے ہیں۔ یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں شامل ہونے کے بعد تخلیق کاروں کو اشتہارات، چینل ممبرشپ، سپر چیٹ اور دیگر سہولیات کے ذریعے کمائی کے مواقع ملتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے پارٹنر پروگرام میں شمولیت کے لیے طویل ویڈیوز سے متعلق مطلوبہ واچ ٹائم میں اضافہ کردیا ہے۔ اس سے قبل چینل کو مونیٹائزیشن کے لیے گزشتہ 12 ماہ کے دوران طویل ویڈیوز کے مجموعی طور پر 4 ہزار گھنٹے دیکھے جانے کی شرط پوری کرنا ہوتی تھی، تاہم اب یہ ہدف بڑھا کر 8 ہزار گھنٹے کردیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ چینل کے لیے کم از کم ایک ہزار سبسکرائبرز کا ہدف بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ اس طرح یوٹیوب سے باقاعدہ آمدنی حاصل کرنے کے خواہش مند نئے تخلیق کاروں کو نہ صرف اپنا ناظرین کا حلقہ وسیع کرنا ہوگا بلکہ اپنی ویڈیوز کو زیادہ دیر تک دیکھے جانے کے قابل بھی بنانا ہوگا۔
یوٹیوب پارٹنر پروگرام تخلیق کاروں کو اپنی ویڈیو مواد سے آمدنی کے متعدد مواقع فراہم کرتا ہے۔ اشتہارات کے علاوہ چینل ممبرشپ، براہ راست نشریات کے دوران سپر چیٹ اور دیگر تجارتی سہولیات بھی تخلیق کاروں کی آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
نئے ہدف کا براہ راست اثر ان افراد پر پڑ سکتا ہے جو حال ہی میں یوٹیوب پر اپنا چینل شروع کرکے اسے آمدنی کا ذریعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ زیادہ واچ ٹائم کی شرط کے باعث نئے تخلیق کاروں کو مونیٹائزیشن کے مرحلے تک پہنچنے کے لیے زیادہ مستقل مزاجی کے ساتھ ویڈیوز تیار کرنا اور ناظرین کو اپنے مواد سے جوڑے رکھنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق صرف سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ کافی نہیں بلکہ ویڈیوز کی مقبولیت، ناظرین کی دلچسپی اور مواد کو دیکھنے میں گزارا جانے والا وقت بھی پلیٹ فارم پر کامیابی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یوٹیوب کی جانب سے مونیٹائزیشن کے اہداف میں تبدیلی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ویڈیو مواد تخلیق کرنا دنیا بھر میں کئی افراد کے لیے باقاعدہ یا اضافی آمدنی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ نئے تخلیق کاروں کے لیے یہ تبدیلی اس بات کی اہمیت بڑھاتی ہے کہ وہ محض زیادہ ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے بجائے معیاری اور ناظرین کی توجہ برقرار رکھنے والا مواد تیار کریں۔
یوں یوٹیوب سے کمائی کا راستہ اب نئے تخلیق کاروں کے لیے پہلے سے زیادہ محنت، مستقل مزاجی اور ناظرین کی مضبوط شمولیت کا تقاضا کرتا دکھائی دیتا ہے۔