خلیجی اتحاد نے اقوام متحدہ سے ایرانی کارروائیوں کے احتساب کا مطالبہ کردیا
ریاض: خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران اور یمن کے حوثی گروپ پر خطے کے امن اور عالمی بحری تجارت کو خطرات سے دوچار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق تنظیم نے کہا کہ موجودہ صورتحال بین الاقوامی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے کہا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ حوثیوں کی طرف سے باب المندب آبنائے بند کرنے کی دھمکیاں عالمی تجارت اور امن کے لیے تشویش ناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ان سرگرمیوں پر واضح اور سخت مؤقف اختیار کرے تاکہ بین الاقوامی قوانین، بحری راستوں کی آزادی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
جاسم محمد البدیوی نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں، سمندری بارودی سرنگیں بچھانے، مخصوص بحری راستے مسلط کرنے کی کوششوں اور اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے کی بار بار دھمکیوں کے ذریعے عالمی جہاز رانی کو متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید سنگین ہونے سے روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ بروقت اور مؤثر اقدامات ہی عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی امن کو درپیش خطرات کا مؤثر تدارک کر سکتے ہیں۔