| |

بھارت میں نوجوانوں کی احتجاجی لہر نے مودی حکومت کی مشکلات میں اضافہ کر دیا

نئی دہلی: بھارت میں جین زی نسل کی جانب سے شروع کی گئی احتجاجی تحریک نے وزیر اعظم مودی کی حکومت کے لیے سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے جس سے تیسری مدت کے دوران ان کے اقتدار پر گہرا دباؤ پڑ رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں یہ تحریک ابتدا میں صرف ایک طنزیہ آن لائن مہم تھی، تاہم اب یہ ملک گیر مظاہروں کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے  شرکا نے حکومت سے شفافیت اور تعلیمی نظام کی بہتری کا مطالبہ کیا ہے۔

تحریک کی شدت میں اضافہ تب ہوا جب سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور ان کی جبری منتقلی کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے نے حکومت مخالف جذبات کو مزید بھڑکا دیا، جس سے احتجاجی لہر کو نئی قوت ملی اور مظاہرین نے پارلیمنٹ کا رخ کر لیا۔

پارلیمنٹ مارچ کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں 18 افراد زخمی ہوئے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق زخمیوں میں 118 پولیس اہلکار اور 60 مظاہرین شامل ہیں۔ کشیدہ صورتحال کے باعث کئی حساس علاقوں میں انٹرنیٹ معطل رہا۔

مظاہرین کا بنیادی مطالبہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ ہے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ امتحانی اسکینڈلز اور بے روزگاری نے نوجوان نسل کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام اور حکومتی پالیسیاں ان کی امنگوں کی ترجمانی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔

مبصرین کے مطابق یہ احتجاج مودی حکومت کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا عوامی دباؤ ہے۔ یہ تحریک واضح کرتی ہے کہ نوجوانوں میں روزگار کے مواقع کی کمی اور تعلیمی بحران پر گہرا غصہ پایا جاتا ہے جو کسی بھی وقت ملک کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر سکتا ہے۔

حکومت کے لیے اب یہ صورتحال ایک چیلنج بن چکی ہے کیونکہ مظاہرین اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ اگر یہ تحریک مزید پھیلتی ہے تو بھارت کی حکمران جماعت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑے گی تاکہ عوامی غیض و غضب کو کسی حد تک ٹھنڈا کیا جا سکے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *