ایران کی بحری ناکہ بندی کی امریکی دھمکی، تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں
نیویارک: ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی امریکی دھمکی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر معمولی اضافے کے ساتھ اوپر چلی گئی ہیں۔
ایران سے خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھا دی ہے۔ گزشتہ روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد تازہ صورتحال نے سپلائی سے متعلق خدشات دوبارہ نمایاں کر دیے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 9 سینٹ یعنی 0.1 فیصد اضافے کے بعد 87.16 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں بھی 4 سینٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 81.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
گزشتہ روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی
تازہ اضافے سے ایک روز قبل برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں اہم عالمی بینچ مارکس کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔
یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب برینٹ کی قیمت مسلسل 6 کاروباری سیشنز جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت مسلسل 5 سیشنز تک اضافے کا رجحان برقرار رکھنے کے بعد نیچے آئی تھی۔
تاہم حالیہ معمولی اضافے کے باوجود رواں ہفتے دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتیں مجموعی طور پر تقریباً 4 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہیں۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال اہم
عالمی تیل مارکیٹ میں موجودہ اتار چڑھاؤ کی بڑی وجوہات میں ایران کے خلاف امریکی اقدامات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال شامل ہیں۔
اگر ایران کی بحری تجارت اور تیل کی برآمدات طویل عرصے تک متاثر ہوتی ہیں تو عالمی منڈی میں خام تیل کی دستیابی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایسی صورتحال میں سپلائی میں رکاوٹ کے امکانات قیمتوں پر مزید اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی طلب کمزور ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں، جس نے گزشتہ سیشن میں قیمتوں پر دباؤ ڈالا تھا۔ تاہم ایران سے متعلق تازہ امریکی دھمکی کے بعد سپلائی کے خدشات ایک بار پھر عالمی مارکیٹ میں اہم موضوع بن گئے ہیں۔