آزاد کشمیر انتخابات: 38 نشستوں پر انتخابی عمل مکمل، ن لیگ 24 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے
مظفرآباد: آزاد کشمیر انتخابات کے 3 مراحل مکمل ہونے کے بعد 38 نشستوں پر انتخابی عمل تقریباً مکمل ہوگیا، جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آگئی جبکہ پیپلز پارٹی 12 نشستیں حاصل کرکے دوسری بڑی سیاسی قوت بن گئی۔ انتخابات کے دوران کئی اہم سیاسی شخصیات کو بڑے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 38 نشستوں میں سے مسلم لیگ ن نے 24 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی 12 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ عوام دست و بازو پارٹی نے بھی 1 نشست اپنے نام کی جبکہ دیگر جماعتوں اور امیدواروں کو نمایاں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
ایل اے 16 پر مسلم لیگ ن کے امیدوار میر اکبر کو واضح برتری حاصل ہے۔ اس حلقے کے مجموعی 186 پولنگ اسٹیشنز میں سے 174 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج مکمل ہوچکے ہیں جبکہ 12 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج تاخیر کا شکار ہیں، جس کے باعث حلقے کا حتمی نتیجہ مکمل ہونے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر انتخابات میں کئی بڑی سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، 24 سیاسی جماعتوں میں سے 20 جماعتیں ایسی ہیں جو ایک بھی نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں جبکہ تحریک انصاف نے انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا۔
انتخابی نتائج میں سب سے نمایاں اپ سیٹس میں مسلم کانفرنس اور استحکام پاکستان پارٹی کے اہم رہنماؤں کی شکست شامل ہے۔ مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق اپنی آبائی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے میں ناکام رہے اور انہیں اپنی نشست پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، سردار عتیق کو 21 ہزار ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست ہوئی۔
اسی طرح استحکام پاکستان پارٹی کے صدر تنویر الیاس بھی دونوں حلقوں سے کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ انہیں دونوں انتخابی حلقوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایل اے 15 باغ کے حلقے میں تنویر الیاس صرف 1,200 ووٹ حاصل کرسکے۔
انتخابات کے دوران جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ بھی کوئی نشست حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ جموں کشمیر پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی انتخابی میدان میں کوئی نشست اپنے نام نہ کرسکیں۔