برطانیہ میں مسلم خواتین کو قتل کی دھمکیوں میں اضافہ
لندن: برطانیہ میں باحجاب مسلمان خواتین کو دوران سفر مبینہ طور پر ہراسانی، توہین آمیز رویے اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے واقعات اب مسلمان خواتین کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جارہے ہیں اور کئی خواتین بار بار پیش آنے والے واقعات کی شکایت کرنے کے بجائے انہیں نظر انداز کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 21 سالہ ایک مسلمان لڑکی نے بتایا کہ سفر کے دوران اسے کئی مرتبہ بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ تھوکنے، دھکے دینے، کھینچا تانی اور دھمکیاں ملنے جیسے واقعات اس کے لیے غیر معمولی نہیں رہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس نے خود کو ایسے حالات برداشت کرنے کے لیے تیار کرلیا ہے۔
متاثرہ لڑکی نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بس کے انتظار میں ایک اسٹاپ پر کھڑی تھی کہ ایک شخص نے اس کے حجاب اور لباس کو نشانہ بناتے ہوئے توہین آمیز جملے کہے۔ اس شخص نے اس کے چہرے پر نقاب اور لباس کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اسے اسلام کے بجائے دہشت گردی سے جوڑا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے نقاب نہ اتارا تو وہ خود اس کے چہرے سے نقاب اتار دے گا۔
لڑکی نے بتایا کہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب وہ شخص بس میں بھی اس کے پیچھے آیا اور اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگا۔ اس موقع پر بس میں موجود صرف ایک شخص نے مداخلت کی، جس کے بعد بس ڈرائیور نے دھمکیاں دینے والے شخص کو گاڑی سے اتار دیا۔
متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ اگر اس موقع پر مسافر مداخلت نہ کرتا تو صورتحال زیادہ خطرناک ہوسکتی تھی اور اسے شدید جسمانی نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
انہوں نے مدد کرنے والے شخص کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے اسے یہ احساس بھی دلایا کہ ایسے حالات میں معمولی سی مدد بھی کسی بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔
مسلمان لڑکی نے بتایا کہ اس نوعیت کے واقعات کا سامنا اسے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ہر واقعے کو پولیس کے پاس رپورٹ کرنا شروع کردیا جائے تو شاید روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ شکایات درج کرانے اور پولیس اسٹیشن کے چکر لگانے میں گزرنے لگے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اسلاموفوبیا کے ایک واقعے کی شکایت میٹروپولیٹن پولیس سے بھی کرچکی ہیں، تاہم متعلقہ پولیس افسر کا رویہ ان کے بقول ایسا تھا جس سے انہیں محسوس ہوا کہ معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ متعدد مسلمان خواتین نے اسلاموفوبیا سے متعلق واقعات پولیس کو رپورٹ کیے ہیں، تاہم بعض خواتین کو مبینہ طور پر پولیس کے رویے کی وجہ سے شکایت درج کرانے میں حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی خاتون کو مذہبی شناخت، لباس یا حجاب کی بنیاد پر بدسلوکی اور دھمکیوں کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
دوسری جانب لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں کسی بھی برادری کے فرد کو بدسلوکی یا خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس کے مطابق نفرت پر مبنی ہر قسم کے واقعات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں اور کسی بھی شخص کو مذہب یا شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا قابل قبول نہیں۔
رپورٹ میں متاثرہ خاتون کے حوالے سے یہ بھی سامنے آیا کہ مسلسل پیش آنے والے واقعات کے باعث بعض خواتین نے ایسے رویوں کو معمول سمجھ کر برداشت کرنا شروع کردیا ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف ایک واقعے کا نہیں بلکہ بار بار پیش آنے والے ان تجربات کا ہے جو متاثرہ خواتین میں خوف اور بے بسی کا احساس پیدا کرسکتے ہیں۔
متاثرہ مسلمان خاتون نے زور دیا کہ مذہبی شناخت یا لباس کی بنیاد پر کسی شخص کو ہراساں کرنا، دھمکانا یا جسمانی نقصان پہنچانے کی کوشش ناقابل قبول ہے اور ایسے واقعات کی شکایات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے تاکہ متاثرہ افراد خود کو محفوظ محسوس کرسکیں۔