چار سال بعد
|

چار سال بعد بیٹا ملا، پمز سانحے میں باپ کی آنکھوں دیکھا حال

اسلام آباد: پمز اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد ایک متاثرہ والد نے انتہائی دلخراش انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شادی کے چار سال بعد پیدا ہونے والے اپنے نومولود بیٹے کو بچانے کیلئے وہ خود آگ میں داخل ہوا۔

فتح جنگ سے تعلق رکھنے والے متاثرہ والد نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے شادی کے چار سال بعد انہیں پہلی اولاد کے طور پر بیٹا عطا کیا تھا۔ ان کے مطابق بچہ شام تقریباً 4 بجے پیدا ہوا، جس کے بعد ڈاکٹروں کی ہدایت پر اسے نرسری میں منتقل کردیا گیا۔

والد کے مطابق بچے کو نرسری میں داخل کرائے ابھی ڈیڑھ گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ شام ساڑھے 5 بجے کے قریب اچانک وارڈ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت بچوں کو بچانے کیلئے اسپتال کا کوئی عملہ فوری طور پر آگے نہیں آیا۔

متاثرہ شخص نے بتایا کہ نرسری کے دروازوں پر تالے لگے ہوئے تھے۔ اپنے بچے کو اندر پھنسا دیکھ کر وہ خود شیشے اور تالے توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے، تاہم شدید آگ اور شعلوں کے باعث انہیں پیچھے دھکیل دیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر وہ دوبارہ اندر گئے اور وہاں سے 4 سے 5 جھلسے ہوئے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے باہر نکالا۔ والد کا کہنا تھا کہ اس دوران اگر مزید فوری امدادی اقدامات کیے جاتے تو شاید کئی معصوم جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔

متاثرہ والد نے اسپتال میں حفاظتی انتظامات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واقعے کے دوران فائر الارم، آگ بجھانے کے مؤثر آلات اور ہنگامی اخراج کے انتظامات نظر نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے واقعے کے بارے میں جو مؤقف سامنے آرہا ہے، وہ ان کے مشاہدے سے مختلف ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سانحے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی کی غفلت ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اس المناک واقعے نے نومولود بچوں کی حفاظت اور اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات پر بھی کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *