ایف بی آر نے اسٹیل سیکٹر کے لیے بجلی پر ٹیکس کی نئی شرحیں مقرر کر دیں
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ملک بھر کے اسٹیل سیکٹر کے لیے بجلی کے فی یونٹ استعمال پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد محصولات کی وصولی کو شفاف بنانا اور صنعتی شعبے میں ٹیکس کے عمل کو آسان بنانا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق نئے قواعد کے تحت مقامی اسکریپ استعمال کرنے والے اسٹیل میلٹرز کو بجلی کے ہر یونٹ پر 30 روپے سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ دوسری جانب وہ یونٹس جو 70 فیصد سے زائد درآمدی اسکریپ استعمال کرتے ہیں، ان پر 5 روپے فی یونٹ کے حساب سے ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔
ای ایف ایس لائسنس یافتہ سپلائرز سے خام مال لینے والے یونٹس کے لیے بھی 5 روپے فی یونٹ کی شرح مقرر کی گئی ہے۔ خود بجلی پیدا کرنے والے کیپٹو پاور یونٹس کو 35 روپے فی یونٹ کے حساب سے سیلز ٹیکس ادا کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
ایف بی آر کے ریئل ٹائم سسٹم سے منسلک اہل یونٹس کے لیے بھی 5 روپے فی یونٹ ٹیکس کی شرح رکھی گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بجلی کے استعمال پر ادا کیا گیا یہ ٹیکس آؤٹ پٹ ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کرنے کی سہولت بھی موجود ہوگی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ ماہانہ 5 لاکھ یا اس سے زائد بجلی یونٹس استعمال کرنے والے مینوفیکچررز کو اسٹیل میلٹر یا کمپوزٹ یونٹ تصور کیا جائے گا۔ مقررہ تاریخ تک ٹیکس کی عدم ادائیگی پر متعلقہ صنعتی یونٹ کا بجلی کنکشن منقطع کرنے کا اختیار بھی ڈسکوز کو دیا گیا ہے۔
تمام متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ یکم جولائی 2026 سے نئی شرحوں پر وصولی یقینی بنائیں۔ اسٹیل میلٹرز اور کمپوزٹ یونٹس کی فہرست ہر تین ماہ بعد اپ ڈیٹ کی جائے گی اور اہل مینوفیکچررز کے نام سیلز ٹیکس جنرل آرڈر کے ذریعے جاری کیے جائیں گے۔
یہ نیا نظام ملکی صنعتوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور محصولات کے اہداف پورے کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے اسٹیل سیکٹر کے مالی معاملات میں بہتری آئے گی اور ٹیکس چوری کا رجحان بھی نمایاں حد تک کم ہو سکے گا۔