زمین کے اندر پوشیدہ ماحولیاتی نظام نے ماہرین کو حیران کر دیا
زمین کی سطح کے نیچے موجود دنیا کے بارے میں ایک نئی سائنسی تحقیق نے حیران کن حقائق سامنے لاتے ہوئے بتایا ہے کہ گہرائی میں بھی زندگی ایک منظم ماحولیاتی نظام کی صورت میں موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق چٹانوں اور زیرِ زمین پانی میں فنگس اور دیگر ننھے جاندار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے پیچیدہ حیاتیاتی سلسلے کا حصہ ہیں، جس سے زمین کے پوشیدہ ماحول کو سمجھنے میں نئی پیش رفت ہوئی ہے۔
یونیورسٹی آف مشیگن کے محققین نے اپنی تازہ تحقیق میں بتایا کہ زمین کے اندر فنگس کی موجودگی ماضی کے اندازوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ تحقیق کی قیادت یونیورسٹی کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ کوئن مون نے کی، جبکہ ٹیم نے تقریباً 1,640 فٹ گہرائی میں واقع گیس کے کنوؤں سے حاصل ہونے والے پانی کے نمونوں کا تفصیلی تجزیہ کیا۔
جدید جینیاتی ٹیکنالوجی اور مائیکروسکوپی کی مدد سے ماہرین نے فنگس کی مجموعی طور پر 689 اقسام کی نشاندہی کی۔ ان میں 13 ایسی نئی اقسام بھی شامل ہیں جنہیں اس سے پہلے سائنسی ریکارڈ میں کبھی درج نہیں کیا گیا تھا، جو زیرِ زمین حیاتیاتی تنوع کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔
تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ پانی کے ایک قطرے میں اوسطاً 250 فنگل خلیے موجود تھے، جبکہ اگر یہی تناسب برقرار رہے تو اولمپک سائز کے ایک سوئمنگ پول میں ان کی تعداد 12 ٹریلین سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ محققین کو ٹارڈی گریڈز اور نہایت چھوٹے جسم والے دیگر جاندار بھی ملے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام جاندار مل کر زیرِ زمین ایک مکمل فوڈ ویب تشکیل دیتے ہیں، جہاں مختلف مخلوقات خوراک کے لیے ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں جبکہ بعض طفیلی انداز میں زندگی بسر کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ دریافت زمین کے پوشیدہ ماحولیاتی نظام کو سمجھنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے آئی ایس ایم ای جرنل میں شائع ہوئی ہے۔