کراچی میں ریگولیٹری کی کوتاہی: ایچ آئی وی ایڈز میں اضافہ ہونے کا انکشاف
کراچی : شہر قائد میں ریگولیٹری کی کوتاہی کے باعث ایچ آئی وی ایڈز میں اضافہ ہورہاہے ۔
ادویات ماہر اورسابق ڈرگ انسپکٹرعبدالرحیم عباسی نے کہا ہے کہ ریگولیٹرز کی کوتاہی کے باعث ایڈز کے کیسز میں اضافہ میں ہورہا ہے، اس کے ذمہ دار ہیلتھ کئیر کمیشن اورادویات کو کنٹرول کرنے والے ہیں یہ بات انہوں نے ایک انٹرویو میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ اگر سرنجز کا استعمال درست ہوتو کیسز میں اضافہ نہیں ہوگا، پاکستان میں چند برس قبل کنونشنل سرنجزپر پابندی لگائی گئی تھی اورآٹو اسٹاک سرنج کے استعمال کے لیے کہا گیا لیکن کنونشنل کی کاسٹ کم ہے اور آٹوکی قیمت زیادہ ہے، چند پیسے بچانے کے لئے کنونشنل سرنج کا استعمال ہورہا ہے اور ایک ہی سرنج دوسرے کو لگا دی جاتی ہے،اس طرح انفیکشن پھیلتا ہے،یہ موذی مرض نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان میں پھیل رہا ہے۔
عبدالرحیم عباسی نے کہاکہ ولیکا اسپتال کی انکوائری درست طریقے سے نہیں ہوئی ہے صرف ملازمین کا قصور نہیں ہے جو ریگولیٹ کرتے ہیں ان کے خلاف تو انکوائری ہوئی ہی نہیں ہے، جن کا کام تھا کہ وہ دیکھتے کہ اسپتال میں سرنج کا استعمال پراپر ہورہا ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کئیر کمیشن کے لوگوں کو بھی یہ چیک کرنا ہوتا ہے لیکن ہیلتھ کئیر کمیشن کے لوگوں پر کروڑوں روپے کا بجٹ تو خرچ ہورہا ہے اور وہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہوئے ہیں،
سابق ڈرگ انسپیکٹر کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو صحت کی سہولت فراہم کریں اور شہری بھی جب کسی سے ادویات خریدتے ہیں تو اس کی رسید لازمی اپنے پاس رکھیں تاکہ اگر کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو وہ رسید ثبوت کے طور پر آپ کے پاس موجود ہو۔