خاتون افسر کو ہراساں کرنے پر جونیئر کلرک ملازمت سے فارغ، 10 لاکھ روپے جرمانہ
اسلام آباد: وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے سرکاری ادارے میں خاتون افسر کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جونیئر کلرک کو ملازمت سے برطرف کرنے کے ساتھ 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے شکایت کی سماعت اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کیا، جس میں متعلقہ کلرک کو قصوروار قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف ملازمت سے برخاستگی کی کارروائی کا حکم دیا گیا۔
کیس کے مطابق خاتون افسر کی جانب سے سرکاری ادارے کے جونیئر کلرک کے خلاف دفتر میں ہراساں کیے جانے کی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ شکایت پر باقاعدہ کارروائی شروع کی گئی اور فریقین کا مؤقف سننے کے بعد معاملہ وفاقی محتسب کے سامنے زیرِ سماعت رہا۔
سماعت مکمل ہونے کے بعد وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے شکایت کے نتیجے میں کلرک کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اسے سرکاری ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ سنایا۔ اس کے علاوہ کلرک پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
دوسری جانب اسی مقدمے میں ایک اور شخص کو ہراسیت کے واقعے میں سہولت کاری کا مرتکب قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم اس کے خلاف عائد الزام شواہد سے ثابت نہ ہوسکا۔
الزام ثابت نہ ہونے پر وفاقی محتسب نے دوسرے شخص کے خلاف دائر شکایت خارج کردی۔ یوں کیس میں ایک ملزم کے خلاف محکمانہ اور مالی کارروائی کا حکم دیا گیا جبکہ دوسرے شخص کو ثبوت نہ ملنے کی بنیاد پر شکایت سے بری کردیا گیا۔