|

خیبرپختونخوا میں بارشوں کا قہر، مختلف حادثات میں 18 افراد جاں بحق، 19 زخمی

خیبرپختونخوا میں 19 جولائی سے جاری موسلادھار بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق مختلف حادثات میں اب تک 18 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 19 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 7 مرد، 8 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 4 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں۔ بیشتر واقعات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے یا سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث پیش آئے۔

 

ادارے کے مطابق شدید بارشوں سے مجموعی طور پر 30 مکانات متاثر ہوئے، جن میں 23 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ 7 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔

 

پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، لوئر چترال، لوئر اور اپر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان شامل ہیں، جہاں امدادی ادارے متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔

 

ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ متاثرین تک امدادی سامان فوری پہنچایا جائے، امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے اور ضرورت مند افراد کو بلا تاخیر سہولتیں فراہم کی جائیں۔

 

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اس وقت صوبے کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے تاہم محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ 23 جولائی تک مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے مزید بارشوں کا امکان موجود ہے، جس کے پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ کو پہلے ہی الرٹ جاری کیا جا چکا ہے۔

 

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، حساس اور پہاڑی سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور موسمی صورتحال کے حوالے سے سرکاری اداروں کی جانب سے جاری ہدایات اور انتباہات پر مکمل عمل کریں۔  ایمرجنسی آپریشن مرکز مکمل طور پر فعال ہے، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال، موسمی معلومات یا امداد کے لیے شہری بلا معاوضہ ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *