لاہور چڑیا گھر
|

لاہور چڑیا گھر میں ٹک ٹاکر شیروں کے پنجرے میں کود گیا

لاہور چڑیا گھر میں ایک ٹک ٹاکر کے مبینہ طور پر شیروں کے احاطے میں داخل ہونے کی ویڈیو سماجی ذرائع ابلاغ پر وائرل ہونے کے بعد انتظامیہ نے واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

چند روز قبل سامنے آنے والی ویڈیو میں ایک نوجوان کو شیروں کے احاطے کے جنگلے کو پھلانگ کر اندر جاتے اور کچھ دیر بعد واپس آتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد صارفین کی جانب سے شدید حیرت کا اظہار کیا گیا، جبکہ متعدد افراد نے اتنے خطرناک مقام تک کسی شخص کے پہنچنے پر حفاظتی انتظامات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔

تاہم لاہور چڑیا گھر کی انتظامیہ نے وائرل ویڈیو کے حوالے سے اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیروں کے جنگلے اور ان کے اصل احاطے کے درمیان ایک وسیع خندق موجود ہے، جس کے باعث جنگلے کے اندر داخل ہونے اور شیروں تک پہنچنے کے مراحل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

چڑیا گھر حکام کے مطابق شیروں کے احاطے کے گرد حفاظتی حصار بھی قائم ہے، جبکہ مختلف مقامات پر خاردار حفاظتی تار کی متعدد تہیں نصب کی گئی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان تمام حفاظتی رکاوٹوں کو عبور کیے بغیر کسی شخص کے شیروں کی خندق تک پہنچنا عملی طور پر ممکن نہیں۔

حکام نے بتایا کہ اب تک ایسی کوئی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ ویڈیو میں نظر آنے والا ٹک ٹاکر واقعی شیروں کے قریب یا ان کی خندق تک پہنچا تھا۔ اسی وجہ سے انتظامیہ نے وائرل ویڈیو کو محض اس کی ظاہری شکل کی بنیاد پر درست واقعہ تسلیم کرنے کے بجائے اس کی مکمل جانچ شروع کردی ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سماجی ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ترمیم کیے جانے کے شواہد موجود ہیں۔ انتظامیہ مختلف پہلوؤں سے ویڈیو کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ریکارڈنگ میں اصل واقعے کو کس حد تک تبدیل کرکے پیش کیا گیا۔

چڑیا گھر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی حقیقت اور اس میں دکھائے گئے مقام کے بارے میں حتمی رائے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی قائم کی جاسکے گی۔ اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذکورہ شخص حقیقتاً شیروں کے خطرناک حصے تک پہنچا تھا یا ویڈیو کو ترمیم کے ذریعے اس انداز میں پیش کیا گیا۔

وائرل ویڈیو نے اگرچہ سماجی ذرائع ابلاغ پر خاصی توجہ حاصل کرلی ہے، تاہم چڑیا گھر انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی انتظامات اور ویڈیو کی حقیقت کی جانچ کے بعد ہی اس واقعے کی اصل صورت حال واضح ہوسکے گی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *