|

لاہور پولیس کے نئے ایس او پیز، خواتین کے تحفظ کے لیے اہم فیصلہ

لاہور: لاہور پولیس نئے ایس او پیز کے تحت خواتین کے تحفظ، عزت اور قانونی حقوق کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ نئی ہدایات کے مطابق غروبِ آفتاب کے بعد کسی بھی خاتون کو تھانے طلب نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ خواتین سے متعلق قانونی کارروائی زیادہ سے زیادہ دن کے اوقات میں مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

پولیس حکام کی جانب سے جاری کردہ نئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کے مطابق مدعیہ ہو یا الزام علیہ، کسی بھی خاتون کو سورج غروب ہونے کے بعد تھانے آنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ تھانے آنے والی خواتین کی تفتیش، بیان اور دیگر قانونی کارروائی کو بھی دن کی روشنی میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

نئی ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ خواتین کو غروبِ آفتاب سے پہلے تھانے سے واپس روانہ کرنا بھی لازمی ہوگا۔ تاہم اگر کسی ہنگامی یا غیر معمولی صورتحال کے باعث خاتون کو تھانے میں روکنا ناگزیر ہو تو اس کے لیے متعلقہ اعلیٰ پولیس افسر کی پیشگی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگی۔

لاہور پولیس نئے ایس او پیز کے مطابق خواتین کی جانب سے درج کرائی جانے والی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے گا اور ان پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ متاثرہ خواتین کو بروقت انصاف اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے اس سلسلے میں تمام ایس پیز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو باقاعدہ احکامات جاری کر دیے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش آنے والے بعض واقعات کے تناظر میں یہ نئے ضابطہ کار نافذ کیے گئے ہیں تاکہ خواتین کے ساتھ عزت و احترام پر مبنی رویے کو یقینی بنایا جا سکے اور پولیس نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *