لیاقت آباد ٹاؤن

لیاقت آباد ٹاؤن میں نمایاں کارکردگی والے طلبہ میں 50 لیپ ٹاپ تقسیم

کراچی: ٹاؤن میونسپل کارپوریشن لیاقت آباد کی جانب سے تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اے پلس اور اے گریڈ حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے نرسری گراؤنڈ لیاقت آباد نمبر 5 میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں 50 ہونہار طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے جبکہ اے پلس گریڈ حاصل کرنے والی ایک نمایاں طالبہ کو خصوصی طور پر الیکٹرک اسکوٹی بھی دی گئی۔

تقریب کے مہمان خصوصی امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان تھے۔ اس موقع پر انہوں نے امیر ضلع گلبرگ وسطی کامران سراج اور ٹاؤن چیئرمین لیاقت آباد فراز حسیب کے ہمراہ ہما بوائز پرائمری اسکول لیاقت آباد نمبر 5 کا افتتاح بھی کیا۔

تقریب میں وائس ٹاؤن چیئرمین اسحاق تیموری، میونسپل کمشنر دریا خان پتافی، کوآرڈی نیٹر صغیر احمد انصاری، یوسی چیئرمینز، وائس یوسی چیئرمینز، بلدیاتی افسران و ملازمین، طلبہ و طالبات، اساتذہ اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ بچوں کی تعلیم اور تربیت پر سرمایہ کاری ہی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ ہونہار طلبہ میں لیپ ٹاپ کی تقسیم ان کی محنت کا اعتراف اور بہتر مستقبل کی جانب ایک قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بچوں نے اپنے والدین، اساتذہ اور علاقے کا نام روشن کیا ہے، ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

منعم ظفر خان نے دعویٰ کیا کہ لیاقت آباد کے اسکولوں کی ازسرنو بحالی کے بعد طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اساتذہ کی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جماعت اسلامی اپنے 9 ٹاؤنز میں اب تک 70 سے زائد اسکولوں کو ازسرنو بحال کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں انہی سرکاری اسکولوں سے تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسی شخصیات نے ملک کا نام روشن کیا، لیاقت آباد کے پارکس بحال کیے گئے، اسپورٹس کمپلیکس بنائے گئے، اسٹریٹ لائٹس نصب کی گئیں، اربن فاریسٹ کا تصور متعارف کرایا گیا اور گلیوں میں پیور بلاکس لگائے جارہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ گلبرگ ٹاؤن نے ملک کا پہلا تعلیم کارڈ جاری کیا تھا اور نئے تعلیمی سال میں لیاقت آباد ٹاؤن میں بھی تعلیم کارڈز جاری کیے جائیں گے تاکہ مہنگائی کے دور میں والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرسکیں۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی نااہلی اور غفلت کے باعث ملک میں تعلیم کا شعبہ بدحالی کا شکار ہے، ملک میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ سندھ میں 78 لاکھ بچے تعلیم حاصل نہیں کررہے، سندھ کے 76 فیصد تعلیمی اداروں میں بجلی، 40 فیصد میں پانی اور 25 فیصد میں واش رومز کی سہولت موجود نہیں۔

منعم ظفر خان نے کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کا نصف سے زائد حصہ پینے کے پانی سے محروم ہے اور اسٹریٹ کرائم کے باعث شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔

امیر ضلع گلبرگ وسطی کامران سراج نے کہا کہ جدید دور میں تعلیم کے ساتھ ٹیکنالوجی سے واقفیت بھی ضروری ہے، اس لیے طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کرنا انہیں جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے نمایاں طالبہ کو الیکٹرک اسکوٹی دیے جانے کو بھی خوش آئند قرار دیا۔

ٹاؤن چیئرمین لیاقت آباد فراز حسیب نے کہا کہ قوموں کی ترقی کا راستہ تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے۔ لیاقت آباد ٹاؤن کا مقصد بچوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے اور اے پلس گریڈ حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات علاقے کے لیے باعث فخر ہیں جبکہ ان کی حوصلہ افزائی دراصل معاشرے کے روشن مستقبل کی حوصلہ افزائی ہے۔ فراز حسیب نے تعلیمی شعبے میں بہتری اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے مزید اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *