سوئی سدرن گیس
|

سوئی سدرن گیس کمپنی نے 50برس  سےخدمات انجام دینے والے کنٹریکٹرز کو کام سے روک دیا

کراچی: سوئی سدرن گیس کمپنی  کےرجسٹرڈ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن سے وابستہ کنٹریکٹرز جو گزشتہ 50 برس سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ساتھ خدمات انجام دے رہے تھے کہ اچانک سے کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کو ایس ایس جی سی کمپنی کی انتظامیہ نے بغیر کسی وجہ اور پیشگی اطلاع کے ان کی کنٹریکٹر شپ ختم کردی ہےاور انہیں کام سے بھی روک دیا ہے۔کمپنی کی جانب سے انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس سے کنٹریکٹرز اور ان سے وابستہ خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ طویل عرصے سے کمپنی سے وابستہ کنٹریکٹرز اور ان سے منسلک درجنوں خاندانوں کا روزگار عدم تحفظ کا شکار ہوگیا ہیں۔

اس حوالے سے کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محسن علی خان نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسوسی ایشن کی جانب سے اوگرا کو متعدد تحریری درخواستیں اور یاد دہانیاں بھی ارسال کی جا چکی ہیں، تاہم تاحال کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹرز کے دفاتر بدستور قائم ہیں، عملہ، سپروائزرز اور فٹرز موجود ہیں اور ان کے اخراجات بھی جاری ہیں، لیکن کمپنی کی جانب سے انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، جس سے کنٹریکٹرز اور ان سے وابستہ خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

محسن علی خان نےسوئی سدرن گیس کمپنی کے رجسٹرڈ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے کمپنی کی جانب سے کنٹریکٹر شپ ختم کیے جانے، ضمانتی رقوم کی عدم واپسی اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کی جانب سے معاملے پر پیش رفت نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

انہوں نےکہا کہ ایسوسی ایشن سے وابستہ کنٹریکٹرز گزشتہ تقریباً 50 برس سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم کمپنی انتظامیہ نے مبینہ طور پر بغیر معقول وجہ اور پیشگی اطلاع کے ان کی کنٹریکٹر شپ ختم کردی ہے اور انہیں کام سے بھی روک دیاہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے خلاف ایسوسی ایشن نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں سماعت کے بعد عدالت نے معاملہ اوگرا کو بھیج دیا تاکہ ریگولیٹری اتھارٹی اس کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے۔

ان کے مطابق عدالت کے حکم پر ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے اوگرا کے دفتر میں سینئر ایگزیکٹو ڈائریکٹر مسحا یعقوب سے ملاقات بھی کی ہے، جہاں کنٹریکٹرز کا مؤقف تفصیل سے سنا گیا اور جلد فیصلہ کرنے، فیصلے سے آگاہ کرنے اور ملاقات کے منٹس فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ جبکہ کنٹریکٹرز کو ٹیسٹ فارم جمع کرانے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم عملی طور پر ٹیسٹ فارم جمع نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات کو کافی وقت گزرنے کے باوجود نہ تو میٹنگ کے منٹس فراہم کیے گئے اور نہ ہی معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

محسن علی خان نے اوگرا اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے پر فوری پیش رفت کرتے ہوئے کنٹریکٹرز کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جائز مطالبات پر فوری اور مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو ایسوسی ایشن دوبارہ عدالت عالیہ سے رجوع کرنے سمیت دیگر قانونی راستے اختیار کرے گی، تاکہ طویل عرصے سے کمپنی سے وابستہ کنٹریکٹرز اور ان سے منسلک درجنوں خاندانوں کے روزگار کا تحفظ کیا جا سکے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *