|

نئے صوبوں کی باتیں صرف سیاست ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی یہ کبھی نہیں ہونے دیں گی، بیرسٹر گوہر

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام کی باتیں محض سیاسی بیانات ہیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی خود کبھی اس کی اجازت نہیں دیں گی، موجودہ حکمران جماعتوں کے پاس ایسی کسی آئینی تبدیلی کا نہ مینڈیٹ ہے اور نہ ہی اتفاقِ رائے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں منگل کی شب ان کی آنکھ کا چیک اپ کیا گیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا، انہیں بھی بعد میں اس حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی یا چیئرمین ، پیپلز پارٹی بلاول زرداری سے ان کا کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہواجبکہ عوام کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ ملک کو موجودہ صورتحال تک کون لے کر آیا۔

بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ جب سے ملک “نئے پاکستان” سے “پرانے پاکستان” کی جانب واپس گیا، اس وقت سے مسائل میں مسلسل اضافہ ہوا، عدلیہ کا نظام متاثر ہوا، معیشت کمزور ہوئی اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد متزلزل ہو گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ملک کے ہر شعبے میں بحران پیدا ہو چکا ہے۔

عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد ملک بھر میں مزید نوے جج تعینات کیے گئے جبکہ اس سے قبل ججوں کی تعداد اٹھانوے تھی،اتنی بڑی تعداد میں تقرریوں کے باوجود انصاف کی فراہمی بہتر نہیں ہو سکی، جس سے عدلیہ پر عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوا ہے۔

نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ حکومت نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات صرف سیاسی مقاصد کے لیے کر رہی ہے اور اس کا مقصد تحریک انصاف کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کو ملک بھر میں نوے فیصد سے زائد عوامی حمایت حاصل ہے اور اگر ملک میں سو صوبے بھی بنا دیے جائیں تو بھی تحریک انصاف ہی کامیاب ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کبھی بھی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر متفق نہیں ہوں گی کیونکہ پنجاب اور سندھ میں ان کے سیاسی مفادات وابستہ ہیں، ایسی کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے، جبکہ موجودہ حکومت کے پاس ایسا کوئی عوامی مینڈیٹ موجود نہیں۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے پیپلز پارٹی پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے شہداء کے معاملے پر مؤثر آواز نہیں اٹھائی بلکہ صرف سیاسی مفادات کو ترجیح دی، بلاول زرداری نے انتخابی نشستوں پر تو اعتراضات کیے، مگر شہداء کے حوالے سے کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ وزیراعظم “فارم سینتالیس” کی پیداوار ہیں، صرف وزیراعظم ہی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی بھی اسی انتخابی عمل کا نتیجہ ہے، کراچی میں تحریک انصاف کی نشستیں بھی چھین کر پیپلز پارٹی کو دی گئیں اور اس حوالے سے انہوں نے پیپلز پارٹی کو کھلے مناظرے کا چیلنج بھی دے دیا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *