مراکش سے ہزاروں تارکین وطن اسپین میں داخل، فوج تعینات کرنے کا فیصلہ
مراکش سے ہزاروں تارکین وطن کی اچانک آمد کے بعد اسپین نے شمالی افریقی شہر سیوٹا میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حکام کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ سرحدی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے، جبکہ اس دوران کم از کم 9 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب سیوٹا کی مقامی انتظامیہ نے مرکزی حکومت سے اضافی سکیورٹی فورسز کی فراہمی کی درخواست کی۔
اطلاعات کے مطابق لوگوں کا ایک بڑا ہجوم سرحدی باڑ عبور کرتے ہوئے اسپین کے زیر انتظام علاقے میں داخل ہوا، جس کے باعث سکیورٹی اداروں کو غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
اسپین کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سول گارڈ کی معاونت کے لیے مسلح افواج کو بھی تعینات کیا جائے گا تاکہ شہر میں امن و امان بحال رکھا جا سکے۔
وزیراعظم پیڈرو سانچیز اور وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈے نے بھی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سیوٹا کے دورے کا اعلان کیا ہے۔
سرحدی نگرانی پر مامور سول گارڈ افسران کی نمائندہ تنظیم کے سربراہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زمینی صورتحال مکمل افراتفری کا منظر پیش کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تارکین وطن کی درست تعداد کا اندازہ لگانا ممکن نہیں، تاہم ہزاروں افراد سرحد عبور کر چکے ہیں اور حفاظتی باڑ مؤثر طور پر ناکارہ ہو چکی ہے، جس کے باعث سکیورٹی ادارے مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔